۱؎ عرج مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک منزل کا نام تھا اور مدینہ منورہ میں ایک محلہ بھی تھا،یہاں دونوں احتمال ہیں کہ یا یہ سفر کا واقعہ ہو یا گھر کا۔
۲؎ یعنی غسل نہیں فرمارہے تھے بلکہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے صرف سر شریف پر پانی بہارہے تھے۔اس حدیث سے یہ دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مسامات کے ذریعہ جو پانی وغیرہ جسم میں پہنچ جائے وہ روزہ کے لیے مضر نہیں لہذا روزے دار کا نہانا پانی میں غوطہ لگانا،سریا جسم پر تیل کی مالش کرنا،بھیگا کپڑا جسم پر لپیٹنا روزے کے لیے مضر نہیں۔ٹیکے(Injection)گودنے کا مسئلہ پہلے بیان ہوچکا کہ ان سے روزہ نہیں جاتا جیسے سانپ،بچھو،بھڑکے کاٹ لینے سے۔دوسرے یہ کہ روزے میں سر پر پانی ڈالنا،زیادہ نہانا مکروہ نہیں جب کہ گھبراہٹ کے اظہار کے لیے نہ ہو،اگر دکھلاوے اور گھبراہٹ کے اظہار کے لیے ہو تو مکروہ ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں۔