| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ نے جو رمضان میں بغیر شرعی اجازت اور بغیر بیماری ایک دن کا روزہ نہ رکھے تو اگرچہ پھر عمر بھر روزہ رکھے اس کی قضا نہ کرے گا ۱؎ (احمد،ترمذی، ابوداؤد،ابن ماجہ دارمی)اور بخاری نے ترجمہ باب میں روایت کیا۔ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد یعنی امام بخاری کو فرماتے سنا کہ ابو المطوس راوی سے اس حدیث کے سواء اور حدیث مجھے معلوم نہیں ۲؎
شرح
۱؎ یعنی بلاوجہ رمضان میں ایک روزہ بھی نہ رکھنے والا اس کے عوض عمر بھر روزہ رکھے تو وہ درجہ اور ثواب نہ پائے گا جو رمضان میں رکھنے سے پاتا اگرچہ شرعًا ایک روزہ سے اس کی قضا ہوجائے گی ادائے فرض اور ہے درجہ پانا کچھ اور۔رخصت سے مراد شرعی اجازت ہے جیسے سفر یا عورت کا حمل یا بچہ کو دودھ پلانا وغیرہ۔اس سے معلوم ہوا کہ وقت پر عبادت کرلینا بہت بہتر ہے،نماز وغیرہ ساری عبادت کا یہی حال ہے۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جوانی کی عبادت بڑھاپے کی عبادت سے افضل ہے کہ عبادات کا اصل وقت جوانی ہے۔شعر کر جوانی میں عبادت کاہلی اچھی نہیں جب بڑھاپا آگیا کچھ بات بن پڑتی نہیں ہے بڑھاپا بھی غنیمت جب جوانی ہوچکی یہ بڑھاپا بھی نہ ہوگا موت جس دم آگئی وقت کی قدر کرو،اسے غنیمت جانو۔ ع! گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔ ۲؎ یعنی اس حدیث کی اسناد میں حضرت ابوہریرہ سے روایت کرنے والے راوی ابوالمطوس ہیں ان سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے ابن خلف قرطبی نے فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف ہے مگر خیال رہے کہ ایک اسناد ضعیف ہونے سے متن حدیث کا ضعیف ہوجانا لازم نہیں،ترمذی کی اسناد میں ابوالمطوس ہیں باقی ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی و احمد نے مختلف اسنادوں سے یہ حدیث نقل کی،تعدد اسناد ضعیف حدیث کو قوی کردیتا ہے۔ (مرقات)