Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
236 - 5479
حدیث نمبر 236
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا میں آنکھوں کا بیمار ہوں کیا بحالت روزہ سرمہ لگاسکتا ہوں فرمایا ہاں ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ اس کی اسناد قوی نہیں ابو عاتکہ راوی ضعیف مانے جاتے ہیں ۲؎
شرح
۱؎ یہی تینوں اماموں کا مذہب ہے یعنی امام ابوحنیفہ،شافعی و مالک کہ روزہ دار کو سرمہ لگانا،آنکھ میں خشک یا پتلی اگرچہ چکنی ہو دوا ڈالنا ہر وقت جائز ہے یعنی سونے سے پہلے بھی اور بعد بھی اگر دوا کا رنگ یا مزا حلق میں محسوس ہو جب بھی مضر نہیں،امام احمد سونے سے پہلے سرمہ لگانا مکروہ فرماتے ہیں یہ حدیث ان تینوں آئمہ کی دلیل ہے۔

۲؎ یہ حدیث بہت طریقوں سے مختلف اسنادوں سے بہت کتب میں مروی ہے تمام اسنادیں ضعیف ہیں لیکن زیادتی اسناد اور عمل علماء کی وجہ سے قوی ہوگئی تمام اسنادیں بالتفصیل یہاں مرقات نے نقل فرمائیں اور اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو کہ تعدد اسناد اور عمل علماء سے حدیث ضعیف بھی قوی ہوجاتی ہے۔
Flag Counter