۱؎ اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم محرم بھی تھے اور روزہ دار بھی،اس حال میں پچھنے لگوائے فصدلی جیساکہ بعض شارحین نے سمجھا بلکہ دونوں واقعہ الگ الگ ہیں یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت احرا م بھی فصدلی ہے اور بحالت روزہ بھی۔معلوم ہوا کہ فصد سے نہ احرام خراب ہو نہ روزہ فاسد مگر احرام میں ضروری یہ ہے کہ بال نہ اکھڑے ورنہ کفارہ واجب ہوگا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فصد نہ تو روزہ توڑتی ہے اور نہ اس سے روزہ مکروہ ہوتا ہے،یہ ہی اما اعظم ابوحنیفہ کا فرمان ہے،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے فصد کرنے والا اور کرانے والا دونوں کا روزہ باقی رہتاہے ٹوٹتا نہیں۔امام احمد کے ہاں حاجم و محجوم دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے مگر ان پر کفارہ نہیں صرف قضا ہے،یہ حدیث ان کے خلاف ہے ان کی دلیل دوسری حدیث ہے جس کے متعلق اس کی شرح میں ان شاءاﷲ عرض کیا جائے گا۔