Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
227 - 5479
حدیث نمبر 227
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان میں بحالت جنابت صبح ہوتی تھی ۱؎ احتلام کے بغیر ۲؎ پھر آپ غسل کرتے اور روزہ رکھتے ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس طرح کہ نماز تہجد کے بعد اپنی ازواج مطہرات سے مقاربت فرماتے اور فورًا غسل نہ فرماتے تھے بلکہ نماز فجر کے وقت پوپھٹنے کے بعدکیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز تہجد فرض تھی جس کی بہت پابندی فرماتے تھے خصوصًا رمضان شریف میں۔

۲؎ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاء کرام کو خواب سے احتلام نہیں ہوسکتا کیونکہ احتلام شیطانی اثر سے ہوتا ہے کہ ابلیس عورت کی شکل میں خواب میں آتا ہے اور یہ حضرات اس کے اثر سے محفوظ ہیں بلکہ جو بیبیاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے والی ہوتی ہیں انہیں بھی کبھی خواب سے احتلام نہیں ہوتا جیسا کہ ہم باب الغسل میں عرض کرچکے ہیں،ہاں اس میں اختلاف ہے کہ بغیر خواب نیند میں انہیں انزال ہوسکتا ہے یا نہیں یعنی زیادتی منی کے باعث۔حق یہ ہے کہ وہ حضرات اس سے بھی محفوظ ہیں یہاں حضرت ام المؤمنین کا مِنْ غَیْرِحُلْمٍ فرمانا یہ بتانے کے لیے ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی جنابت مقاربت سے ہوتی تھی یہ منشاء نہیں کہ وہاں احتلام کا  امکان ہے۔حضرت ام المؤمنین کا مقصد یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مخالطت سے ہی جنبی ہوتے تھے نہ کہ احتلام سے کہ وہاں احتلام کا تو ا مکان ہی نہیں۔(مرقاۃ و اشعہ)

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ روزے کے بعض حصہ میں جنبی رہنا روزہ کو فاسد نہیں کرتا خواہ روزہ فرض ہویا نفل،یہ قول صحیح ہے۔حضرت ابوہریرہ پہلے فرمایا کرتے تھے کہ جو جنابت میں سویرا پالے اس کا روزہ نہیں مگر یہ حدیث سن کر رجوع فرماگئے اور بولے کہ حضرت عائشہ و ام سلمہ رضی اللہ عنہما مجھ سے زیادہ جانتی ہیں اس حدیث کی تائید اس آیت سے بھی ہے"فَالۡـٰٔنَ بٰشِرُوۡہُنَّ"نیز اس آیت سے بھی"اُحِلَّ لَکُمْ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمْ"کیونکہ جب رمضان میں رات بھر صحبت کرنے کی اجازت دی گئی تو پوپھٹنے تک صحبت جائز ہوئی اب لامحالہ غسل پو پھٹنے پر ہی ہوگا،نیز اگر روزہ دارکو دن میں احتلام ہو  جائے تو روزہ میں کوئی نقصان نہیں،بعض علماء نے فرض و نفلی میں فرق کیا ہے مگر حق یہ ہے کہ کوئی فرق نہیں۔
Flag Counter