۱؎ یہ حکم فرض و نفل تمام روزوں کے لیے ہے کہ ان میں بھول کر کھا پی لینے سے روزہ نہیں جاتا۔بھول یہ ہے کہ روزہ یاد نہ رہے اور کھانا پینا ارادۃً ہو اس میں نہ قضا ہے نہ کفارہ۔خطا یہ ہے کہ روزہ یاد ہو مگر بغیر ارادہ پانی حلق سے اتر جائے جیسے کلی یا غرارہ کرتے وقت اس میں قضا ہےکفارہ نہیں۔عمد یہ ہے کہ روزہ بھی یاد ہو کھانا پینا بھی ارادۃً ہو اس میں قضا بھی ہے کفارہ بھی،جماع بھی کھانے پینے کے حکم میں ہے لہذا اگر روزہ دار بھول کر صحبت کرلے تو بھی روزہ نہیں جائے گا،یہ ہی احناف کا مذہب ہے۔فلیتم امر سے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی روزہ شروع کردینے سے فرض ہوجاتا ہے اس کا پورا کرنا فرض ہے۔
۲؎ یعنی یہ بھول رب تعالٰی کی رحمت ہے،اس نےچاہا کہ میرا بندہ کھا پی بھی لے اور اس کا روزہ بھی ہوجائے۔ خیال رہے کہ ہماری بھول چوک غفلت و کمزوری کی بنا پر ہوتی ہے مگر اس پر معافی دینا رب تعالٰی کی طرف سے ہے لہذا حدیث پر یہ ا عتراض نہیں کہ بھول تو شیطانی اثر سے ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ مَاۤ اَنۡسٰنِیۡہُ اِلَّا الشَّیۡطٰنُ"پھر اسے رب کی طرف منسوب کیوں فرمایا۔