Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
226 - 5479
حدیث نمبر 226
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوس و کنار کرلیتے تھے اور حضور اپنے نفسی حاجت پر سب سے زیادہ مالک(قادر)تھے ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روزہ دار اگر اپنے نفس پر پورا قابو رکھتا ہو یا بیماری یا بڑھاپے کے ضعف کی وجہ سے یا تقویٰ و پرہیزگاری کی وجہ سے وہ اپنی بیوی سے بوس و کنار کرسکتا ہے اور جو قابو نہ رکھے وہ ہرگز ہرگز یہ کام نہ کرے،اس لیے ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نفسی حاجت پر قادر تھے،حضرت عائشہ کا ایسے واقعات بیان فرمانا مسئلہ شرعی کے بیان کے لیے ہے اسے بے غیرتی کہنا حماقت ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ"۔طبیب لوگ بیماریوں و علاجوں کے بیان میں کھلی کھلی باتیں بیان کرتے ہیں بے غیرتی کے لیے نہیں بلکہ بیان علاج کے لیے۔
Flag Counter