روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جھوٹی باتیں اور برے کام نہ چھوڑے ۱؎ تو اﷲ تعالٰی کو اس کے کھانا پانی چھوڑ دینے کی پرواہ نہیں۲؎(بخاری)
۱؎ یہاں جھوٹی بات سے مراد ہر ناجائز گفتگو ہے،جھوٹ،بہتان،غیبت،چغلی،تہمت،گالی،لعن طعن وغیرہ جن سے بچنا فرض ہے اور برے کام سے مراد ہر ناجائز کام ہے آنکھ کان کا ہو یا ہاتھ پاؤں وغیرہ کا،چونکہ زبان کے گناہ دیگر اعضاء کے گناہوں سے زیادہ ہیں اس لیے ان کا علیحدہ ذکر فرمایا،یہ حدیث بہت جامع ہے۔دو جملہ میں ساری چیزیں بیان فرمادیں اگرچہ برے کام ہر حالت میں اور ہمیشہ ہی برے ہیں مگر روزے کی حالت میں زیادہ برے کہ ان کے کرنے میں روزے کی بے حرمتی اور ماہ رمضان کی بے ادبی ہے اس لیے خصوصیت سے روزے کا ذکر فرمایا ہر جگہ ایک گناہ کا عذاب ایک مگر مکہ مکرمہ میں ایک گناہ کا عذاب ایک لاکھ ہے،کیوں؟ اس زمین پاک کی بے ادبی کی وجہ سے۔
۲؎ یہاں حاجت بمعنی ضرورت نہیں کیونکہ اﷲ تعالٰی ضرورتوں سے پاک ہے بلکہ بمعنی توجہ،التفات،پرواہ یعنی اﷲ تعالٰی ایسے شخص کا روزہ قبول نہیں فرماتا قبول نہ ہونے سے روزہ گویا فاقہ بن جاتا ہے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ یہ روزہ شرعًا تو درست ہوجائے گا کہ فرض ادا ہوجائے گا مگر قبول نہ ہوگا شرائط جواز تو صرف نیت ہے اور کھانا پینا،صحبت چھوڑدینا مگر شرائط قبول میں باتیں چھوڑنا ہے جو روزہ کا اصل مقصود ہے۔روزہ کا منشاء نفس کا زور توڑنا ہے جس کا انجام گناہ چھوڑنا ہے جب روزے میں گناہ نہ چھوٹے تو معلوم ہوا نفس نہ مرا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ روزہ ہر عضو کا ہونا چاہئیے،صرف حلال چیزوں یعنی کھانے پینے کو نہ چھوڑو بلکہ حرام چیزوں یعنی جھوٹ و غیبت کو بھی چھوڑو،مرقات نے فرمایا کہ ایسے بے باک روزے دارکو اصل روزہ کا ثواب ملے گا اور ان چیزوں کا گناہ۔
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے سال رمضان میں مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوئے ۱؎ تو روزے رکھتے رہے حتی کہ کراع الغمیم پہنچ گئے ۲؎ لوگ بھی روزہ دار رہے پھر حضور نے پانی کا پیالہ منگایا اسے اٹھایا حتی کہ آپ کو لوگوں نے دیکھا پھر پیا ۳؎ اس کے بعد حضور سے عرض کیا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ رکھ لیا ۴؎ فرمایا یہ لوگ گنہگار ہیں یہ لوگ گنہگار ہیں ۵؎(مسلم)