Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
225 - 5479
باب تنزیہ الصوم

باب روزے کو پاک و صاف رکھنا  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ تنزیہ کے لغوی معنی ہیں دور رکھنا یا الگ کرنا۔اصطلاح شریعت میں تنزیہ صوم یہ ہے کہ جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا مکروہ ہوجاتا ہے یا اس کا ثواب کم ہوجاتاہے ان سے روزہ کو الگ رکھنا یعنی روزہ دار کا الگ رہنا تاکہ روزہ ہر نقصان سے پاک وصاف رہے یہ چیز بہت ضروری ہے۔
حدیث نمبر 225
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جھوٹی باتیں اور برے کام نہ چھوڑے ۱؎ تو اﷲ تعالٰی کو اس کے کھانا پانی چھوڑ دینے کی پرواہ نہیں۲؎(بخاری)
شرح
۱؎ یہاں جھوٹی بات سے مراد  ہر ناجائز گفتگو ہے،جھوٹ،بہتان،غیبت،چغلی،تہمت،گالی،لعن طعن وغیرہ جن سے بچنا فرض ہے اور برے کام سے مراد ہر ناجائز کام ہے آنکھ کان کا ہو یا ہاتھ پاؤں وغیرہ کا،چونکہ زبان کے گناہ دیگر اعضاء کے گناہوں سے زیادہ ہیں اس لیے ان کا علیحدہ ذکر فرمایا،یہ حدیث بہت جامع ہے۔دو جملہ میں ساری چیزیں بیان فرمادیں اگرچہ برے کام ہر حالت میں اور ہمیشہ ہی برے ہیں مگر روزے کی حالت میں زیادہ برے کہ ان کے کرنے میں روزے کی بے حرمتی اور ماہ رمضان کی بے ادبی ہے اس لیے خصوصیت سے روزے کا ذکر فرمایا ہر جگہ ایک گناہ کا عذاب ایک مگر مکہ مکرمہ میں ایک گناہ کا عذاب ایک لاکھ ہے،کیوں؟ اس زمین پاک کی بے ادبی کی وجہ سے۔

۲؎ یہاں حاجت بمعنی ضرورت نہیں کیونکہ اﷲ تعالٰی ضرورتوں سے پاک ہے بلکہ بمعنی توجہ،التفات،پرواہ یعنی اﷲ تعالٰی ایسے شخص کا روزہ قبول نہیں فرماتا قبول نہ ہونے سے روزہ گویا فاقہ بن جاتا ہے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ یہ روزہ شرعًا تو درست ہوجائے گا کہ فرض ادا ہوجائے گا مگر قبول نہ ہوگا شرائط جواز تو صرف نیت ہے اور کھانا پینا،صحبت چھوڑدینا مگر   شرائط قبول میں باتیں چھوڑنا ہے جو روزہ  کا  اصل مقصود  ہے۔روزہ  کا  منشاء نفس کا  زور توڑنا ہے جس کا  انجام  گناہ چھوڑنا ہے جب روزے میں گناہ نہ چھوٹے تو معلوم ہوا نفس نہ مرا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ روزہ ہر عضو کا ہونا چاہئیے،صرف حلال چیزوں یعنی کھانے پینے کو نہ چھوڑو بلکہ حرام چیزوں یعنی جھوٹ و غیبت کو بھی چھوڑو،مرقات نے فرمایا کہ ایسے بے باک روزے دارکو اصل روزہ کا ثواب ملے گا اور ان چیزوں کا گناہ۔
حدیث نمبر 255
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے سال رمضان میں مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوئے ۱؎ تو روزے رکھتے رہے حتی کہ کراع الغمیم پہنچ گئے ۲؎ لوگ بھی روزہ دار رہے پھر حضور نے پانی کا پیالہ منگایا اسے اٹھایا حتی کہ آپ کو لوگوں نے دیکھا پھر پیا ۳؎ اس کے بعد حضور سے عرض کیا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ رکھ لیا ۴؎ فرمایا یہ لوگ گنہگار ہیں یہ لوگ گنہگار ہیں ۵؎(مسلم)
Flag Counter