| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابو عطیہ سے فرماتے ہیں میں اور مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے ۱؎ ہم نے عرض کیا اے ام المؤمنین حضور محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے دو حضرات ہیں ایک تو افطار بھی جلد کرتے ہیں اور نماز بھی جلد پڑھتے ہیں اور دوسرے صاحب افطار بھی دیر سے کرتے ہیں اور نماز بھی دیر سے پڑھتے ہیں ۲؎ فرمانے لگیں کون صاحب نماز و افطار میں جلدی کرتے ہیں ۳؎ ہم نے عرض کیا عبداﷲ ابن مسعود بولیں ایسے ہی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور دوسرے حضرت ابو موسیٰ ہیں۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہ دونوں حضرات جلیل القدر تابعی ہیں،ان میں نماز مغرب اور افطار روزہ میں اختلا ف ہوا،فیصلہ کے لیے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئےکیونکہ آپ بڑی فقیہہ عالمہ تھیں۔ ۲؎ نماز سے مراد نمازمغرب ہے اور جلدی سے بہت ہی جلدی آفتاب کا کنارہ چھپتے ہی بالکل متصل اور دیر سے مراد چند منٹ کی احتیاطًا دیر لگانا ہے نہ کہ تارے گتھ جانے تک کی تاخیر لہذا ان میں سے کسی بزرگ پر اعتراض نہیں،ایک صاحب عزیمت پر عامل ہیں دوسرے رخصت پر۔ ۳؎ سبحان اﷲ! جناب ام المؤمنین کا کیسا حکیمانہ سوال ہے،دیر لگانے والے کا نام نہ پوچھا تاکہ ان پر الزام کا ذکر نہ ہو۔ ۴؎ آخری جملہ راوی کا اپنا ہے،حضرت ام المؤمنین نے جناب عبداﷲ کے عمل کو سنت مستحبہ کے موافق بتایا اور قدرے تاخیر کو مستحب قرار دیا۔معلوم ہوا کہ جناب ام المؤمنین مزاج شناس رسول ہیں اور احوال دان مصطفے ٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔غالب یہ ہے کہ یہ خبر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو پہنچی ہوگی اور انہوں نے اپنے عمل میں تبدیلی کرلی ہوگی،صحابہ سے یہ توقع ہوسکتی ہی نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے واقف ہوکر اس کے خلاف کام کریں۔