Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
223 - 5479
حدیث نمبر 223
روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہ سے فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سحری کے لیے بلایا ۱؎ تو فرمایا برکت والے ناشتہ کے لیے آؤ کیونکہ سحری میں برکت ہے ۲؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎  ظاہر یہ ہے کہ حضرت عرباض سحری کے وقت خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ہوں گے تو فرمایا آؤ سحری کھالو انہیں باقاعدہ دعوت دے کر گھر سے نہ بلایا ہوگا۔اس سے معلوم ہوا کہ کھاتے وقت اگر کوئی مسلمان آجائے تو اس پر کھانا پیش کردینا سنت ہے۔

۲؎ اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ سحری کھانا سنت بھی ہے لہذا اس میں اخروی برکت ہے اور اس سے روزے میں مدد بھی ملتی ہے لہذا اس میں دنیوی برکت بھی ہے۔خیال رہے کہ ھَلُمَّ اسم فعل ہے ایک کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور بہت کے لیے بھی،رب تعالٰی نے سارے مشرکوں سے فرمایا:"ہَلُمَّ شُہَدَآءَکُمُ"۔
Flag Counter