۱؎ یعنی مسلمانوں کا جلدی روزہ افطارتے رہنا دین کے غلبے کا سبب ہے۔معلوم ہوا کہ سنتوں بلکہ مستحبات کی پابندی مسلمانوں کی شوکت اور دین کے ظہور و دبدبہ کاباعث ہے،پھر فرائض کا کیا پوچھنا،ہندوستان کے مسلمان اذان اور گائے کی قربانی پر کفار سے لڑتے رہے،کیوں؟غلبۂ اسلام کو قائم رکھنے کے لیے۔خیال رہے کہ یہاں جلدی سے مراد وقت جواز میں جلدی ہے جب سورج ڈوب جائے پھر دیر نہ لگائے،بلاوجہ دیر لگانا سنت کے خلاف ہے اور اتنی دیر کہ تارے گتھ جائیں مکروہ تحریمی۔
۲؎ یعنی دیر سے افطار کرنے میں ا ہل کتاب سے مشابہت ہے۔مرقاۃ و اشعہ نے فرمایا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام کی درستی سارے کفار کی مخالفت سے وابستہ ہے ان سے مشابہت میں دین کی کمزوری ہے۔ افسوس ان مسلمانوں پر جومحض عیسائیوں کی مشابہت کے لیے داڑھیاں منڈائیں،کھڑے ہو کر پیشاب کریں، ننگے سر پھریں،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤی اَوْلِیَآء"اورفرماتاہے:"وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ"۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو بہت دیر کرکے روزہ افطارنے کو دین سمجھتے ہیں،سورج ڈوبتے ہی فورًا روزہ افطارنا چاہئیے اسی لیے رب تعالٰی نے فرمایا:"ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡل"۔فِی الَّیْلِ نہ فرمایا یعنی روزے کو رات میں بالکل داخل نہ کرو رات آتے ہی روزہ ختم کرو۔