۱؎ افطار کے وقت یہ دعا مانگنا سنت ہے،مرقات نے فرمایا کہ اگر یہ بھی کہہ لے وَبِكَ اٰمَنْتُ اگرچہ اس کلمہ کی کوئی اصل تو نہیں مگر درست ہے،بعض لوگ آخر میں یہ بھی کہہ لیتے ہیں"وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ"یہ کل کے روزے کی نیت ہے اور زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا بدعت حسنہ ہے،بعض لوگ افطار کے وقت یوں کہتے ہیں"اَللّٰھُمَّ لَكَ صُمْتُ وَبِكَ اٰمَنْتُ وَعَلَیْكَ تَوَکَّلْتُ وَبِرِزْقِكَ اَفْطَرْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ"اس میں بھی حرج نہیں۔غرضکہ دعائیہ کلمات میں زیادتی جائز ہے،بعض لوگ اَلتَّحِیَّاتُ میں درود ابراہیمی میں لفظ مُحَمَّدٍ سے پہلے سَیِّدِنَا بڑھادیتے ہیں،بعض حجاج تلبیہ میں یہ زیادتی کردیتے ہیں"اِنَّ عَبْدَكَ وَاِبْنَ عَبْدَیْكَ وَاقِفٌ بَیْنَ یَدَیْكَ حَالُہٗ لَایَخْفٰی عَلَیْكَ"وغیرہ اس میں بھی حرج نہیں،ہاں درود وظیفوں کے الفاظ بالکل نہ بدلے جائیں کیونکہ وہ کسی خاص اثر کے لیے ہوتے ہیں اور یہ اثر منقولہ الفاظ سے وابستہ ہے اور دعائیں محض ثواب کے لیے یہاں جتنے الفاظ زیادہ اتنا ثواب زیادہ۔