| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطارتے تو فرماتے پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوئیں اور ان شاءاﷲ ثواب ثابت ہوگیا ۱؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس میں رب تعالٰی کا انتہائی شکر ہے کہ پیاس اور رگوں کی خشکی ایک عارضی چیزیں تھیں جو افطار کرتے ہی دور ہوگئیں مگر اس عارضی تکلیف پر جو رب تعالٰی نے ثواب عطا فرمایا وہ عظیم الشان ہے اور دائمی ہے۔ان شاءاﷲ یا محض برکت کے لیے فرمایا گیا یا ہماری تعلیم کے لیےکہ ہم کو روزہ مقبول یا مردود ہونے کی خبر نہیں،اگر رب تعالٰی نے قبول فرمالیا ہو تو پھر اجر ہی اجر ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اِنَّ بمعنی اِذْ اور اس کا تعلق گزشتہ تینوں چیزوں سے ہے مگر پہلی توجیہ قوی بھی ہے اور موقعہ کے مناسب بھی۔