Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
219 - 5479
حدیث نمبر 219
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطارتے تو فرماتے پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوئیں اور ان شاءاﷲ ثواب ثابت ہوگیا ۱؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس میں رب تعالٰی کا انتہائی شکر ہے کہ پیاس اور رگوں کی خشکی ایک عارضی چیزیں تھیں جو افطار کرتے ہی دور ہوگئیں مگر اس عارضی تکلیف پر جو رب تعالٰی نے ثواب عطا فرمایا وہ عظیم الشان ہے اور دائمی ہے۔ان شاءاﷲ یا محض برکت کے لیے فرمایا گیا یا ہماری تعلیم کے لیےکہ ہم کو روزہ مقبول یا مردود ہونے کی خبر نہیں،اگر رب تعالٰی نے قبول فرمالیا ہو تو پھر اجر ہی اجر ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اِنَّ بمعنی اِذْ اور اس کا تعلق گزشتہ تینوں چیزوں سے ہے مگر پہلی توجیہ قوی بھی ہے اور موقعہ کے مناسب بھی۔
Flag Counter