۱؎ اس لیے کہ روزہ دار کو افطار کرانے یا غازی کو سامان دینے میں نیکی پر مدد کرنا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے: "وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی"۔چونکہ روزہ دارنفس و شیطان سے جہادکرتا ہے اس لیے اسے غازی کے ساتھ ذکر فرمایا۔خیال رہے کہ روزہ افطار کرانے سے ثواب روزہ مل جائے گا مگر اس سے روزہ ادا نہ ہوگا وہ تو رکھنے سے ہی ادا ہوگا،ثواب مل جانا اور ہے فرض ادا ہونا کچھ اور۔
۲؎ یہ حدیث ترمذی،ابن ماجہ،نسائی،ابن حبان وغیرہم محدثین نے نقل فرمائی،ترمذی نے اسے حسن صحیح فرمایا،شاید حضرت مصنف قدس سرہ ان اسنادوں پر مطلع نہ ہوئے اس لیے ان کا ذکر نہ فرمایا۔