Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
217 - 5479
حدیث نمبر 217
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے چند ترکھجوروں پر روزہ افطار تے تھے ۱؎ اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک چھواروں پر ۲؎ اگر چھوارے بھی نہ ہوتے تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۳؎(ترمذی، ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
شرح
۱؎ اس سے دو مسئلے ہوئے:ایک یہ کہ روزہ دار افطار پہلے کرے نماز مغرب کے بعد افطار کرنا سنت کے خلاف ہے۔دوسرے یہ کہ چند کھجوریں افطار کے وقت کھانا مسنون ہے تین یا پانچ،بعض روایات میں تین خرمے کاذکر ہے۔مرقات نے فرمایا کہ حضرت عمر فاروق و عثمان غنی رضی اللہ عنہما کبھی بعد نماز مغرب افطار کرتے تھے یا تو بیان جواز کے لیے تاکہ لوگ نماز سے پہلے افطار کو فرض نہ سمجھ لیں یا اس لیے کہ اتفاقًا اس وقت افطارنے کے لیے کچھ موجود نہ ہوتا۔بہرحال نماز سے پہلے افطار سنت ہے اور نماز کے بعد افطار جائز مگر خلاف سنت،ہاں اگر کچھ موجود نہ ہو تو بعد نماز افطار کرلے یا حضرت عمر و عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہما کی حدیث میں افطار سے مراد کھانا تناول کرنا ہے یعنی افطار تو نماز سے پہلے کرلیتے تھے اور کھانا بعد نماز کھاتے تھے،بہرحال حدیث واجب التاویل ہے۔

۲؎ اس ترتیب سے پتہ لگا کہ تر کھجور پر روزہ افطارنا بہت اچھا ہے،پھر اگر یہ نہ ملیں تو خشک چھواروں پر افطار کرنا،ہمارے رمضان شریف میں کثرت سے بازار میں کھجوریں آجاتی ہیں اور عام طور پر لوگ خریدتے ہیں، مسجدوں میں بھیجتے ہیں ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۳؎ غرضکہ روٹی چاول یا کسی پرتکلف چیز پر روزہ افطار نہ فرماتے تھے،پنجاب میں بعض روزہ داروں کو دیکھا گیا کہ سگریٹ سے روزہ افطارتے ہیں،نعوذباﷲ روزہ دار کے منہ میں پہلے پاکیزہ چیز جانی چاہئیے سگریٹ گندی بدبو دار چیز بھی ہے اور اس سے روزہ افطارنا مضر صحت بھی ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ بہتر یہ ہے کہ آگ سے پکی چیز سے روزہ نہ افطارے بلکہ گرمی میں پانی سے سردی میں کھجور سے افطارے،جب آگ کی پکی چیز سے روزہ نہ افطارنا چاہئیےتو خود آگ سے روزہ افطارنا کتنا برا ہو گا،بعض لوگ کہتے ہیں کہ مکہ والے ہمیشہ آبِ زمزم سے روزہ افطاریں یہ غلط ہے سنت کے خلا ف ہے،سنت ہے کھجوریا چھوارے سے افطارنا اگر یہ نہ لیں تو پانی سے افطارنا۔
Flag Counter