۱؎ پہلے ادھر سے سمت مغرب مراد ہے اور دوسرے ادھر سے سمت مشرق مراد،چونکہ مغرب کی طرف سیاہی پہلے نمودار ہوتی ہے اور سورج کا آخری کنارہ پیچھے ڈوبتا ہے اس لیے اس سید الفصحاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے رات کے آنے کا ذکر پہلے فرمایا،دن کے جانے سے مراد سورج کا آخری کنارہ ڈوب جاناہے نہ کہ سرخی غائب ہوجانا کیونکہ سرخی غائب ہونے پر تو صاحبین کے ہاں وقت عشاء آجاتا ہے اسی لیے اگلا جملہ ارشاد ہورہا ہے۔
۲؎ اس جملہ نے دن جانے کی شرح فرمادی یعنی سورج چھپتے ہی روزہ افطارو اب نفس کشی کے بہانے یا وہمیات کی اتباع نہ کرو،اب خواہ مخواہ دن ہونے کا شبہ کرنا شک نہیں بلکہ وہم ہے۔