Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
210 - 5479
حدیث نمبر 210
روایت ہے حضرت سہل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ لوگ بھلائی میں رہیں گے جب تک افطار جلدی کرتے رہیں گے ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ افطار جلدی کرنے کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ افطار نماز مغرب سے پہلے کیا جائے،نماز پہلے پڑھ لینا بعد میں افطار کرنا اس حدیث کے خلاف ہے۔(مرقات)دوسرے یہ کہ آفتاب ڈوبنے کا یقین ہوجانے پر افطارکرلیا جائے پھر دیر نہ لگائی جائے۔خیال رہے کہ افطار کے وقت بھی تین ہیں:وقت مستحب،وقت مباح اور وقت مکروہ۔وقت مستحب تو وہ ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ سورج کا آخری کنارہ چھپتے ہی روزہ افطار کیا جائے۔وقت مباح تارے گتھنے سے کچھ پہلے تک دیر لگانا اور تارے گھتے جانے پر افطار کرنا مکروہ۔اس کراہت کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت یہودی روزہ افطارتے ہیں،اس میں ان سے مشابہت ہے اور جلدی افطارنے میں اپنے عجز بندگی کا اظہار بھی ہے اور اﷲ کی دی ہوئی اجازت کا جلدی قبول کرنابھی۔(مرقاۃ)اسی مرقات میں ہے کہ بعض علماء نے فرمایا نفس پر مشقت ڈالنے اور مغرب و عشاء کو ملانے کے لیے دیر سے افطار کرنا بہتر ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ سنت رسول اﷲ سیدھا راستہ ہے اور اس کی مخالفت گمراہی ہمیشہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام افطار میں جلدی اور سحری میں دیر کرتے تھے،نفس کشی کے لیے سنت کی مخالفت نہ کرو کہ یہ نفس کشی نہیں بلکہ رہبانیت ہے،ہماری نفس کشی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہے اور اللہ کی دی ہوئی اجازت کا جلدی قبول کرنا بھی ۔
Flag Counter