| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کے چند لقمے ہیں ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ اکلہ الف کے پیش اور کاف کے جزم سے،بمعنی لقمے یا نوالے اور الف کے زبر سے بمعنی کھانا یعنی سحری کے نوالے یا سحری کھانا مسلمان اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق کا باعث ہیں کیونکہ ان کے ہاں رات کو سونے کے بعد کھانا حرام ہوجاتا ہے،اسلام میں بھی پہلے یہی حکم تھا اب پوپھٹنے تک کھانا پینا حلال کردیا گیا،سحری کھانے میں اﷲ کی دعوت کا قبول کرنا ہے اور اس کی اس نعمت کا شکریہ۔اُکْلَہ فرمانے میں اس جانب اشارہ ہے کہ سحری تھوڑی کھانا بہتر ہے اتنی زیادہ کہ دوپہر تک کھٹی ڈکاریں آئیں بہتر نہیں۔