روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سحری کھاؤ ۱؎ کہ سحری میں برکت ہے۲؎(مسلم،بخاری)
۱؎ یہ حکم استحبابی ہے نہ کہ وجوبی کیونکہ روزہ کے لیے سحری مستحبہ ہے واجب یا فرض نہیں۔صبح سے پہلے کے وقت کو سحر کہتے ہیں اور اس وقت کھانے یا پینے کو سحری یعنی آخر رات کی غذا،سحری کا وقت آدھی رات سے شروع ہوجاتا ہے مگر سنت یہ ہے کہ رات کے آخری چھٹے حصے میں کھائی جائے۔
۲؎ سحور سین کے پیش سے بھی ہے اور زبر سے بھی مگر زبر سے زیادہ فصیح ہے،بعض نے فرمایا کہ سحور سین کے پیش سے سحری کھانا،اور سین کے زبر سے اس وقت کی غذا۔(مرقات و اشعہ)سحری کا کھانا مبارک ہے اور اس کھانے کے استعمال میں برکت ہےکیونکہ یہ سنت ہے اور سنت مبارکہ ہے،نیز اس کھانے سے روزے میں مدد ملتی ہے،نیز اس کھانے کی وجہ سے مسلمانوں اور عیسائیوں وکفار کے روزوں میں فرق ہوجاتا ہے۔خیال رہے کہ علماء سے روشنائی،دوپہری میں قدرے آرام کرنا،روزوں میں سحری کھانا سب مبارک ہیں کہ ان کا تعلق عبادات سے ہے جب عبادت کے تعلق سے عادت مبارک بن جاتی ہے تو دنیا دین ہوجاتی ہے تو حضرات انبیاء و اولیاء سے جس چیز کو نسبت ہوجائے وہ بھی یقینًا مبارک ہو جاتی ہے،دیکھو شب قدر مبارک،ماہ رمضان مبارک ہےکیونکہ انہیں عبادتوں سے تعلق ہے،عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے متعلق فرمایا تھا:"وَّجَعَلَنِیۡ مُبَارَکًا"مجھے اللہ نے مبارک بنایا یہ حضرات بذات خود مبارک ہیں اور ان کیطرف منسوب چیزیں ان کی وجہ سے مبارک۔