۱؎ اس نافرمانی کی تین صورتیں ہیں:ایک یہ کہ سارے شعبان میں کبھی روزے نہ رکھے صرف شک کے دن بلاوجہ نفلی روزہ رکھے۔دوسرے یہ کہ شک کے دن رمضان کی نیت سے فرضی روزہ رکھے۔تیسرے یہ کہ اس روزہ میں متردد نیت کرے کہ آج اگر رمضان کی پہلی ہے تو یہ روزہ فرضی ہے اور اگر شعبان کی تیسویں ہے تو یہ روزہ نفلی ہے یہ تینوں صورتیں ممنوع ہیں،دوسری صورت زیادہ بری کہ اس میں اہل کتاب سے مشابہت ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث اباحت کے خلاف نہیں۔مرقات میں ہے کہ امام ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ شوال کے چھ روزوں کا رمضان سے ملانا عوام کے لیے ناپسندکرتے تھے۔
۲؎ ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح فرمایا اور بخاری نے اسے تعلیقًا روایت کیا،حاکم نے اسے بشرط شیخین بتایا،طبرانی نے حضرت ابن عباس سے موقوفًا روایت کیا۔غرض کہ یہ حدیث صحیح ہے جن لوگوں نے اسے موضوع بتایا انہوں نے سخت غلطی کی۔خیال رہے کہ ترمذی وغیرہ میں اصل حدیث یوں ہے کہ حضرت صلح ابن زفر فرماتے ہیں کہ ہم شک کے دن حضرت عمار ابن یاسر کے پاس تھے،آپ کی خدمت میں بھنی بکری لائی گئی بعض لوگ پیچھے ہٹ گئےتب آپ نے فرمایا جو اس دن روزہ رکھے اس نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔اس قسم کی موقوف حدیثیں مرفوع کے حکم میں ہوتی ہیں۔