| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں ایک بدوی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر بولا کہ میں نے چاند دیکھا ہے یعنی رمضان کا چاند ۱؎ حضور نے فرمایا کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں بولا ہاں فرمایا کیا یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں بولا ہاں۲؎ فرمایا اے بلال لوگوں میں اعلان کردو کہ کل روزہ رکھیں۳؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)
شرح
۱؎ یعنی اس نے نہ تو اپنے ساتھ کوئی اور گواہ پیش کیا اور نہ گواہی کے الفاظ ادا کئے۔اس سے معلوم ہوا کہ اس چاند میں خبر کافی ہوتی ہے۔ ۲؎ اس زمانے میں چونکہ اسلام میں فرقے نہ بنے تھے صرف کلمہ طیبہ پڑھ لینا مسلمان ہونے کے لیے کافی تھا،نیز کلمہ طیبہ پڑھنا تمام عقائد اسلامیہ مان لینے کی دلیل تھا اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہ دو اقرار کرائے۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ رمضان کے چاند میں مسلمان کی خبر معتبر ہے نہ کہ کافر کی۔دوسرے یہ کہ کسی بات کے جواب میں ہاں کہہ دینا یہ بھی اقرار ہوتا ہے،اس سے اقرار نکاح طلاق کے بہت سے مسائل مستنبط ہوں گے،مثلًا کسی نے پوچھا کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اس نے کہا ہاں طلاق ہوگئی وغیرہ۔البتہ حدود قصاص میں اقرار کے صریح الفاظ بولنے ضروری ہیں وہاں فقط ہاں کافی نہیں کیونکہ یہ چیزیں شبہات سے ختم ہوجاتی ہیں۔فقیر نے حدیث کی جو شرح عرض کی اس سے معلوم ہوگیا کہ اب مرزائیوں وغیرہ مرتدین کا فقط کلمہ پڑھ لینااسلام کے لیے کافی نہیں خود زمانہ نبوی میں(صلی اللہ علیہ وسلم)منافقوں کا کلمہ پڑھنا ان کے اسلام کے لیے کافی نہ تھا لہذا یہ حدیث نہ تو قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف ہے"وَاللہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ لَکٰذِبُوۡنَ"اور نہ ان احادیث کے مخالف جن میں فرمایا گیا کہ آئندہ زمانے میں لوگ قرآن اور نمازیں پڑھیں گے مگر اسلام سے دور ہوں گے۔ ۳؎ فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر انتیسویں شعبان کو مطلع صاف نہ ہو تو ایک عادل مسلمان کی خبر سے رمضان کے چاند کا ثبوت ہوجائے گا،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔اس حدیث سے اشارۃً معلوم ہوا کہ سارے صحابہ عادل ہیں کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کلمہ کا اقرار کراکر اعمال کی تحقیق نہ فرمائی،نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ رمضان کے روزے کی نیت دن میں بھی ہوسکتی ہے رات سے نیت کرنا ضروری نہیں۔