| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو متواتر دو ماہ روزے رکھتے نہ دیکھا سوائے شعبان و رمضان کے ۱؎ (ابوداؤد ترمذی،نسائی ابن ماجہ)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سارے ہی شعبان کے اکثر روزے رکھتے تھے حتی کہ انتیسویں یا تیسویں شعبان کے بھی۔اس کی ممانعت کی تو جہیں پہلے کی جاچکی ہیں کہ کمزوروں کے لیے پندرہویں شعبان کے بعد روزے مناسب نہیں،قوت والوں کے لیے مناسب ہیں۔بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں روزے زیادہ رکھتے تھے اور افطار کم فرماتے تھے یعنی کبھی وہ عمل فرماتے تھے اور کبھی یہ لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔