Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
196 - 5479
حدیث نمبر 196
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطارکرو ۱؎ پھر اگر چاند تم پر مشتبہ ہوجائے تو شعبان تیس دن کا شمار کرو۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  صُوْمُوْا کا فاعل سارے مسلمان ہیں،لِرُؤیَتِہٖ میں ہ ضمیر کا مرجع چاند ہے،لِرُؤیَتِکُمْ نہ فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ کہیں بھی چاند ہوجائے سب مسلمانوں پر روزہ فرض ہوجائے گا بشرطیکہ انہیں چاند کا ثبوت شرعی پہنچ جائے چاند میں اختلاف مطالع کا اعتبار نہ ہوگاجیساکہ شوافع کا خیال ہے کہ ایک علاقہ کی رویت دوسرے علاقہ والوں کے لیے معتبر نہیں مانتے یہ حدیث ان کے خلاف ہے اور احناف کی دلیل ہے۔شوافع کی دلیل حضرت عمر کا یہ فرمان"لَھُمْ رُؤیَتُھُمْ وَلَنَا رُؤیَتُنَا"اس کا جواب ان شاءاﷲ اسی حدیث کے ماتحت دیا جائے گا کہ وہاں شرعی گواہی نہ ہونے کی وجہ سے یہ فرمایا تھا۔بعض جہلا تیسویں رمضان کو عید کا چاند عصر کے وقت دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ عید کا چاند نظر آگیا روزہ کھول دو یہ غلط ہے یہاں افطار سے مراد کل روزہ نہ رکھنا اور عید منانا ہے نہ کہ روزہ توڑ دینا جیساکہ اگلے جملہ سے معلوم ہورہا ہے۔

۲؎  چاند مشتبہ ہونے کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ کہیں نظر ہی نہ آئے جنتری والے کہتے ہوں کہ کل چاند ہوگیا۔دوسرے یہ کہ اڑتے اڑتے معلوم ہوجائے کہ فلاں جگہ چاند ہوگیا شرعی گواہی نہ پہنچے۔فقیر نے ریڈیوں کی خبر کے متعلق فتویٰ یہ دیا ہے کہ اگر ریڈیو پر کہیں چاند ہونے کی خبر دی جائے تو معتبر نہیں اور سننے والے اس خبر پر روزہ یا عید نہیں مناسکتے لیکن اگر حکومت اسلامیہ کی قائم کردہ ہلال کمیٹی شرعی قواعد کی رو سے شرعی گواہی لے کر چاند ہوجانے کا فیصلہ کرے اور اپنے فیصلہ کا ریڈیو پر اعلان کرے تو معتبر ہے کیونکہ پہلی صورت میں چاند کی خبر کا اعلان ہے اور اس صورت میں حاکم کے فیصلہ کا، پہلا غیرمعتبر دوسرا معتبر۔حاکم کے فیصلہ کی اطلاع تو فائر،گولہ،چراغاں وغیرہ سے کردینا بھی جائز ہے ریڈیو کی اطلاع تو اس سے کہیں زیادہ قوی ہے۔اس مسئلہ کی نہایت نفیس تحقیق ہمارے فتاوےٰ نعیمیہ میں دیکھو۔خیال رہے کہ فقیر کا یہ فتویٰ اس صورت میں ہے کہ ہلال کمیٹی کے اراکین مسائل شرعیہ سے واقف ہوں اور گواہی وغیرہ شرعی قواعد سے حاصل کریں۔
Flag Counter