۱؎ عربی میں تیسری شب تک کے چاند کو ہلال کہتے ہیں ان کے بعد کی راتوں میں قمر کہا جاتا ہے اور چودھویں شب کے چاند کو بدر کہا جاتا ہے،آخری راتوں میں محا ق،یہاں رمضان وغیرہ کی پہلی شب کا چاند مراد ہے۔بہت سی اسلامی عبادات چاند پر موقوف ہیں اس لیے ہر مہینہ کا ہی چانددیکھنا چاہیے مگر خصوصیت سے شبِ برات،رمضان، شوال،بقر عید کا چاند ضرور دیکھنا چاہئے کہ ان سے روزے،عید،قربانی وغیرہ متعلق ہیں اس لیے مصنف نے چاند دیکھنے کا مستقل باب باندھا۔
حدیث نمبر 195
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ روزہ نہ رکھو حتی کہ رمضان کا چاند دیکھ لو اور افطار نہ کرو حتی کہ چاند دیکھ لو ۱؎ اگر تم پر ابر کی وجہ سے چاند چھپ جائے تو مہینہ کا اندازہ لگا لو۲؎ اور ایک روایت میں ہے کہ مہینہ انتیس راتوں کا ہے تو روزہ نہ رکھو حتی کہ چاند دیکھ لو ۳؎ پھر اگر تم پر چاند مشتبہ ہوجائے تو تیس دن کی گنتی پوری کرلو ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی نہ تو مشکوک دن میں روزہ رکھو اور نہ مشکوک میں عید مناؤ لہذا تیسویں شعبان کو روزہ نہ رکھو کہ شاید کل چاند ہوگیا ہو اور تئیسوں رمضان کو عید نہ مناؤ اس شبہ پر کہ کل شاید شوال کا چاند ہوگیا ہو بلکہ جب رمضان یا شوال کا چاند یقینی طو ر پر ہوجائے تب روزہ یا عید مانو۔اس جملہ پر بہت سے شرعی احکام مرتب ہیں،فقہاء فرماتے ہیں کہ شک کے دن روزہ رکھنا منع ہے اس کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے۔ ۲؎ یعنی تیس دن پورے کرلو کیونکہ چاند کا مہینہ ۲۹ دن سے کم نہیں ہوتا اور ۳۰ دن سے زیادہ نہیں ہوتا،چاند دیکھنے کی کچھ تفصیل اگلی حدیث میں آرہی ہے۔ ۳؎ یعنی عربی مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے لیکن اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس کا ہوگا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چاند میں دیکھنے کا اعتبار ہے،جنتری حساب وغیرہ شریعت میں بالکل غیرمعتبر ہیں جیساکہ آگے آرہا ہے۔ ۴؎ یہ جملہ اس آیت کی تفسیر ہے"وَ لِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمْ"یعنی ماہ رمضان کی گنتی پوری کرنا فرض ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اگر جنتری والا اپنے حساب سے روزہ رکھے یا عید کرے تو سخت گنہگار ہوگا کیونکہ شریعت میں چاند دیکھنے کا اعتبار ہے اور اگر حساب پر عید منوائے تو سخت فاسق ہوگا اور اگر اسی حساب پر لوگوں کے روزے تڑوا دے تو سب پر کفارہ واجب ہوگا اور اگر اس حساب پرعمل کو واجب جان کر روزہ یا عید کو فرض جانے تو کافر ہوجائے گاکیونکہ وہ آٓیت مذکورہ کا بھی منکر ہوا اور احادیث متواترہ کا بھی۔