Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
197 - 5479
حدیث نمبر 197
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگ بے پڑھی جماعت ہیں نہ لکھیں نہ حساب لگائیں ۱؎ مہینہ یا تو اتنا اتنا اور اتنا ہے تیسری بار میں انگوٹھا شریف بند کرلیا پھر فرمایا کہ مہینہ اتنا اتنا اور اتنا یعنی پورے تیس دن کا یعنی انتیس کا اور کبھی تیس کا ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
 ۱؎ لفظ ام اُمٌّ سے بنا،بمعنی اصل یا ماں اس میں اشارہ اہل عرب کی طرف ہے۔امی کے معنے ہیں ام القرے یعنی مکہ یا حجاز والا یا بے پڑھا ہوا شخص کہ جیسے ماں کے شکم سے پیدا ہو ویسے ہی رہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو امی کہا جاتا ہے اس کی نفیس تفسیریں ہماری کتاب "شان حبیب الرحمن"میں ملاحظہ فرمائیے یعنی ہم حجازی جماعت عمومًا حساب کتاب نہیں کیا کرتے یا عام صحابہ بے پڑھے ہیں حساب نہیں لگاتے مگر قیامت تک سارے مسلمان انہیں بے پڑھوں کے تابع ہیں۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ امی کے معنے بے پڑھا ہے بے علم نہیں اﷲ تعالٰی نے صحابہ کرام کو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے ایسا عالم بنایا کہ جہان بھر کے علماء ان کی شاگردی کریں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بایں معنے امی ہیں کہ پیدائشی عالم،عارف،معلم ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔شعر 

جو فلسفیوں سے حل نہ ہوئے اور نکتہ وروں سے کھل نہ سکے

وہ  راز  اک   امی  لقبی   نے  سمجھا دیئے    چند   اشاروں  میں

اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ چاند میں حساب،جنتری،چاند کی رفتار کا قیاس،چاند کا چھوٹا بڑا ہونا،اٹھائیس تاریخ کو نظر نہ آنا وغیرہ کچھ بھی معتبر نہیں صرف رؤیت کا اعتبار ہے اگر انتیس کو رؤیت نہ ہو تو تیس دن پورے کرنا لازم ہیں۔

۲؎  سبحان اﷲ! ان پاک اشاروں پر ہماری جانیں فدا ہوں دو اشاروں میں ہزار ہا مسائل حل فرمادیئے۔اس اشارہ فرمانے سے اشارۃً معلوم ہوا کہ حدود و قصاص کے سوا باقی اکثر احکام شرعیہ میں اشارہ معتبر ہے۔اگر کوئی اپنی بیوی کو تین انگلیاں دکھا کر کہے تجھے اتنی طلاقیں تو تین طلاقیں واقع ہوں گی،اگر حاکم کے سامنے کوئی دسوں انگلیاں دکھا کر کہے مجھ پر فلاں کے اتنے روپے قرض ہیں تو دس۱۰ روپے کا اقرار ہوا،اگرکسی عورت کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ تیرا نکاح اس سے کرتا ہوں تو نکاح ہوجائے گا وغیرہ وغیرہ اسی طرح گونگا اشاروں سے نکاح،طلاق وغیرہ کرسکتا ہے۔
Flag Counter