| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا کہ میری امت کی بخشش رمضان کی آخری رات میں ہوتی ہے عرض کیا گیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وہ شبِ قدر ہے تو فرمایا نہیں لیکن مزدور کو مزدوری جب ملتی ہے جب وہ اپنا کام پورا کرلیتاہے ۱؎(احمد)
شرح
۱؎ یعنی رمضان کی انتیسویں یا تیسویں رات کو روزہ داروں کی بخشش کا فرشتوں میں اعلان ہوجاتا ہے کہ ان کے روزے،تراویح،اعتکاف،شبِ قدر کی عبادتیں قبول فرمالی گئیں اور ان کی بخشش کا فیصلہ کردیا گیا،یہ ہی رات بندوں کے عمل سے فراغت کی رات ہے،رب تعالٰی کی عطاء کی رات بھی۔حسن اتفاق ہے کہ یہ گنہگار بندہ احمد یار آج انتیسویں رمضان دو شنبہ ۱۳۷۹ھ کو یہ شرح لکھ رہا ہے،خدا کرے اس رات میں اس گنہگار کی معافی بھی ہوگئی ہو اور جو مسلمان بھائی میری مغفرت کی دعا کرے اﷲ اس کی مغفرت فرمادے۔آمین!
وَصَلَّی اﷲُ تعالٰی عَلیٰ خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّم