| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہم میں وعظ فرمایا تو فرمایا اے لوگو تم پر عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے ۱؎ یہ مہینہ برکت والا ہے جس کی ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے وہ یہ مہینہ ہے جس کے روزے اﷲ نے فرض کئے اور جس کی رات کا قیام نفل بنایا۲؎ جو اس ماہ میں نفلی بھلائی سے قربِ الٰہی حاصل کرے تو گویا اس نے دوسرے مہینہ میں فرض ادا کیا اور جو اس میں ایک فرض ادا کرے تو ایسا ہوگا جیسے اس نے دوسرے مہینہ میں ستر فرض ادا کئے ۳؎ یہ صبر کا مہینہ ہے ۴؎ اور صبر کا ثواب جنت ہے یہ غربا کی غم خواری کا مہینہ ہے ۵؎ٍ یہ وہ مہینہ ہے جس میں مؤمن کا رزق بڑھایا جاتا ہے۶؎ جو اس مہینہ میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے تو اس کے گناہوں کی بخشش اس کی گردن کی آزادی آگ سے ہوگی اور اسے روزہ دار کا سا ثواب ملے گا۷؎ اس کے بغیر کہ روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم ہو۸؎ ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ ہم میں سے ہر شخص وہ نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کرائے ۹؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ یہ ثواب اسے دے گا جو روزہ دار کو ایک گھونٹ دودھ یا کھجور یا گھونٹ بھر پانی ۱۰؎ سے افطار کرائے اور جو روزہ دار کو سیر کرے اﷲ اسے میرے حوض سے وہ پانی پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا حتی کہ جنت میں داخل ہوجائے ۱۱؎ یہ وہ مہینہ ہے جس کے اول میں رحمت،بیچ میں بخشش اور آخر میں آگ سے آزادی ہے۱۲؎ اور جو اس مہینہ میں اپنے غلام سے تخفیف کرے تو اﷲ اسے بخش دے گا اور آگ سے آزاد کردے گا ۱۳؎
شرح
۱؎ اس پیشگی اطلاع دینے میں ماہ رمضان کی فضیلت کا اظہار ہے اور مسلمانوں کو اس کی عبادات کے لیے تیار کرنا ہے۔اظل فرما کر اشارۃً بتایا کہ جیسے درخت یا چھت بندے کو اپنے سایہ میں لے کر سورج کی تپش سے بچالیتے ہیں ایسے ہی ماہ رمضان مؤمن کو اپنے سایہ میں لے کر دنیاوی و آخروی عذاب سے بچالیتا ہے گویا رمضان سایہ دار بار دار درخت ہے یا ڈھال ہے۔ ۲؎ یہاں نفل لغوی معنی میں ہے یعنی زائد چیز اور رات کے قیام سے مراد تراویح ہے یعنی اس ماہ میں نماز تراویح زائد نماز ہے جو دوسرے مہینوں میں نہیں لہذا اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تراویح نفل ہو وہ تو سنت مؤکدہ ہے۔تراویح کی پوری بحث ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیے۔ ۳؎ یعنی ماہ رمضان کی نفل دوسرے مہینوں کی فرض کی برابر ہے اور ا س ما ہ کی فرض عبادت دوسرے ماہ کی ستر فرائض کی مثل ہے لہذا اگر مکہ معظمہ میں رمضان المبارک میں ایک فرض ادا کیا جائے تو اس کا ثواب ستر لاکھ فرض کا ہے کیونکہ اور دنوں وہاں ایک کا ثواب ایک لاکھ ہے تو رمضان میں ستر لاکھ اس حساب سے مدینہ منورہ میں ماہ رمضا ن کی ایک فرض کا ثواب پینتس۳۵ لاکھ ہے یہ زیادتی تو رمضان کے عام دنوں میں ہے شب قدر اور رمضان کے جمعہ کی نیکیاں تو بہت زیادہ ہوں گی۔ان شاء اﷲ! ۴؎ یعنی دوسرے مہینہ شکر کے ہیں جن میں کھاؤ،آرام کرو اور شکر بجالاؤ اس مہینہ میں دن میں نہ کھاؤ رات کو نہ سوؤ اور صبرکرو۔رمضان کے چار نام ہیں:ماہ رمضان،ماہ صبر،ماہ مواسات،ماہ مبارک ان ناموں کی وجہ ہم نے اپنی "تفسیرنعیمی"میں تفصیل سے لکھی ہے۔ ۵؎ کہ اس مہینہ میں قدرتی طور پر مسلمانوں میں غرباء اقرباء کی غم خواری کا جذبہ موجزن ہوتا ہے،بعض لوگ رمضان میں اپنی شادی شدہ لڑکیوں کو بلالیتے ہیں بعض لوگ مہینہ بھر تک مسکینوں کو کھلاتے ہیں،ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے اور مواسات پر عمل ہے مواسات،بمعنی مساہمت ہے سہم بمعنی حصہ سے مشتق یعنی اپنی روزی میں دوسروں کو حصہ دار بنانا،سخاوت کرنا۔ ۶؎ رزق حسی بھی اور معنوی بھی ہر سال اس کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ ہر روزہ دار کو رمضان میں وہ نعمتیں ملتی ہیں جو دوسرے مہینوں میں نہیں ملتیں،نیز اس مہینہ میں قدرتی طور پر دل پر وہ اثر ہوتا ہے جو دوسرے مہینوں میں نہیں ہوتا۔ ۷؎ یعنی روزہ افطار کرنے والے کو تین فائدے ہوتے ہیں:گناہوں سے بخشش،دوزخ سے آزادی اور اسے روزہ کا ثواب۔بعض لوگ افطار کے وقت مسجدوں میں پھل فروٹ یا کھانے بھیجتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث شریف ہے۔کاٹھیاواڑ اور یوپی میں ہر نمازی مغرب کے وقت کچھ لے کر آتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ ہر ایک دوسرے کے کھانے سے روزہ افطار کرے اس کی اصل بھی یہ ہی حدیث ہے۔خیال رہے کہ روزہ افطار کرانے سے ثواب روزہ تو مل جاتا ہے مگر اس سے روزہ ادا نہیں ہوتا لہذاکوئی امیر لوگوں کو افطار کراکے خود روزہ سے بے نیاز نہیں ہوسکتا روزے تو رکھنے ہی پڑیں گے۔ ۸؎ جیسے علم،روشنی،ہوا ان سے خواہ کتنے ہی لوگ فائدہ اٹھالیں کمی نہیں ہوتی ایسے ہی ثواب تقسیم ہونے سے کم نہیں ہوتا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ تقسیم ہوکر ثواب میں کمی کیوں نہیں ہوتی،مادی چیزیں بٹ کر گھٹتی ہیں،نور میں یہ قاعدہ نہیں،بلکہ سمندر اور چشمہ کا پانی بھی خرچ سے گھٹتا نہیں۔ ۹؎ وہ حضرات سمجھے کہ روزہ افطار کرانے کے معنے ہیں اسے سیرکردینا اس لیے یہ سوال کیا۔ ۱۰؎ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ صرف پیٹ بھرنے پر یہ ثواب موقوف نہیں،جو چیز بھی اولًا روزہ دار کے حلق سے نیچے اتاری جائے یہ ثواب مل جاتا ہے بلکہ اگر چند آدمی مل کر روزہ دار کو کسی چیز سے افطار کرادیں تو سب کو الگ الگ روزے کا ثواب ہوگا،داتا کی دین کے بہانے ہوتے ہیں صدقہ ہے اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ ۱۱؎ یعنی صرف افطار کرانے کا ثواب تو بیان ہوچکا،روزہ دار کو سیرکرکے کھلانے کا ثواب یہ ہے۔خیال رہے کہ جیسے آج دنیا میں سب کو کھانے کی سخت ضرورت ہے ایسے ہی کل میدان محشر میں پانی کی سخت ضرورت ہوگی وہاں بھوک نہ ہوگی مگر پیاس ہوگی،اﷲ تعالٰی حوض کوثر کی ایک نہر میدان محشر میں پہنچادے گا جس سے امت مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ہی یہ پانی پیئے گی اور پیاس سے امن میں رہے گی،ایک بار جس نے یہ پانی پی لیا تو جنت میں داخلہ تک پیاس نہ لگے گی،اﷲ تعالٰی ہم سب کو وہاں اس حوض کا پانی نصیب کرے،پھر جنت میں پہنچ کر نہ بھوک ہوگی نہ پیاس لہذا حدیث بالکل واضح ہے اس پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ محشر میں حوض کوثر کہاں حوض تو جنت میں ہوگا،نہ یہ اعتراض رہا کہ پیاسا نہ ہونے کی انتہاء جنت میں داخلہ تک بیان کیوں فرمائی،کیا جنت میں پہنچ کر پیاس لگے گی،نہ یہ اعتراض رہا کہ کھانے کا بدلہ پانی کیا اس کا بدلہ تو کھانا ہی چاہئے تھا۔خیال رہے کہ جنت میں بھوک نہ ہوگی نہ پیاس مگر وہاں کھانا پینا سب کچھ ہوگالذت کے لیے نہ کہ بھوک پیاس دفع کرنے کو اسی لیے وہاں میوے ہیں غلے نہیں کہ غلے بھوک دفع کرنے کو ہوتے ہیں میوہ لذت کو۔ ۱۲؎ یعنی ماہ رمضان کے تین عشرہ ہیں:پہلے عشرہ میں رب تعالٰی مؤمنوں پر خاص رحمتیں فرماتا ہے جس سے انہیں روزہ تراویح کی ہمت ہوتی ہے اور آئندہ ملنے والی نعمتوں کی استعداد پیدا ہوتی ہے۔دوسرے عشرہ میں تمام صغیرہ گناہوں کی معافی ہے جو جہنم سے آزادی کا اور جنت میں داخلہ کا سبب ہے۔تیسرے عشرہ میں روزہ داروں کے جنتی ہوجانے کا اعلان اور وہاں کے داخلہ کا ویزہ(Viza)اور پاسپورٹ(Pasport)کی تحریر۔فقیر کی اس شرح سے اس ترتیب کی وجہ بھی معلوم ہوگئی اور یہ اعتراض بھی نہ رہا کہ جب پہلے دو عشروں میں رحمت و مغفرت ہوچکی تو تیسرے عشرہ میں آگ سے آزادی کے کیا معنے وہ تو پہلے ہی حاصل ہوچکی۔ ۱۳؎ اسلامی بادشاہ رمضان میں ہر محکمہ میں چھٹی کرتے تھے،اب بھی تمام مدارس اسلامیہ رمضان میں بند رہتے ہیں تاکہ مدرسین کو فرصت اور طلباء کو فراغت ملے،بعض امراء اس مہینہ میں نوکروں سے کام یا تو لیتے نہیں یا بہت کم لیتے ہیں مگر ان کی تنخواہ اور کھانا وغیرہ برابر دیتے رہتے ہیں،ان سب کی اصل یہ حدیث شریف ہے تم اپنے ماتحتوں،نوکروں پر مہربانی کرو اﷲ تم پر مہربانی کرے گا۔