Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
192 - 5479
حدیث نمبر 192
روایت ہے حضرت ابن عبا س سے فرماتے ہیں کہ جب ماہ رمضان آتا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہر قیدی کو چھوڑ دیتے تھے ۱؎  اور ہر منگتے کو دیتے تھے ۲؎
شرح
۱؎ حق یہ ہے کہ یہاں قیدی سے مراد وہ شخص ہے جو حق اﷲ یا حق العبد میں گرفتار ہو اور آزاد فرمانے سے اس کے حق ادا کردینا یا کرادینا مراد ہے ورنہ اس زمانہ پاک میں سوائے ان کفار کے جو غزوہ جہاد میں قید ہو کر آئے اورکسی کو قید نہ کیا جاتا تھا اور ایسے قیدیوں کو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے کسی رمضان میں آزاد نہ کیا کہ ان کو چھوڑ دینا فتنہ سے خالی نہ تھا وہ پھر جاکر مسلمانوں کے مقابل ہوتے۔احناف کے نزدیک جنگ کے کفار قیدیوں کو چھوڑنا منسوخ ہے ان کے لیے یا قتل ہے یا غلام بنانا یا فدیہ پر چھوڑنا"فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ" منسوخ ہے اس کا ناسخ ہے"فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیۡنَ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمْ"ہاں شوافع کے ہاں آزاد کرنے کا بھی حق ہے،یہ معنے جو ہم نے عرض کئے متفق علیہ ہیں۔

۲؎ یوں تو سرکار ہمیشہ ہی ہر سائل کو دیتے تھےکریم ہیں،سخی ہیں،داتا ہیں مگر ماہ رمضان میں آپ کی سخاوت کا سمندر موجیں مارتا تھا۔یہاں دوباتیں خیا ل میں رکھیئے:ایک یہ کہ امیروں سے صرف مال مانگے جاتے ہیں مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے مال،اعمال،کمال،رضائے رب ذوالجلال اور جنت،نیز دوزخ سے پناہ،ایمان پر خاتمہ سب کچھ ہی مانگا جاتا ہے،حضرت ربیعہ نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت مانگی،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم یوں تو ہمیشہ خصوصًا رمضان میں ہر سائل کو اس کی منہ مانگی مراد دیتے تھے۔دوسرے یہ کہ سرکار کی یہ بخششیں صرف اس زمانہ سے خاص نہیں تا قیامت ان کا دروازہ ہر فقیر کے لیے کھلا ہے،کیوں نہ ہو کہ رب تعالٰی نے فرمایا:"وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ"سائل میں زمانہ ومکان کی قید نہیں لہذا اب بھی رمضان میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر مؤمن کو رہائی بھی مانگنی چاہیے اور جنت وغیرہ بھی ہم نے عرض کیا ہے۔شعر

شرم قیدی،یہ جرم و بے حیائی 			رہائی   یا  رسول  اﷲ    رہائی

رہائی    کردی   غزے   زوے			عطا  کن  زیں  بلا  مارا  رہائی

چھڑایا قید سے ہرنی کو تم نے			مجھے بھی اس بلا سے دو رہائی
Flag Counter