| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزے اور قرآن بندے کی شفاعت کریں گے ۱؎ روزے عرض کریں گے یارب میں نے اسے دن میں کھانے اور شہوت سے روکا لہذا اس کے بارے میں میری شفاعت قبول کر اور قرآن کہے گا میں نے اسے رات میں سونے سے روکا لہذا اس کے متلق میری شفاعت قبول کر ۲؎ دونوں کی شفاعت قبول ہوگی ۳؎(بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ یعنی روزہ رکھنے والے تراویح پڑھنے والے گنہگار بندے کی تو معافی کی سفارش کریں گے اور بے گناہ بندے کی بلندیٔ درجات کی لہذا قرآن و رمضان کی شفاعت سے سارے ہی مؤمن فائدہ اٹھائیں گے،چونکہ قرآن کریم رمضان المبارک ہی میں آیا اور رمضان میں ہی اس کی تلاوت زیادہ ہوتی ہے اور دن میں روزہ رات کو تراویح میں تلاوت قرآن ہوتی ہے اسی لیے ان دونوں کو جمع فرمایا گیا۔ ۲؎ یعنی روزہ افطار کرکے اس کی طبیعت آرام کی طرف مائل ہوتی تھی،ہاتھ پاؤں میں سستی پھیل جاتی تھی کہ نماز عشاء کی اذان کی آواز سنتے ہی تراویح میں مجھے سننے آجاتا تھا لہذا یہاں تراویح پڑھنے والے مراد ہیں تہجد والے ہی مراد نہیں کیونکہ تہجد تو سال بھر پڑھی جاتی ہے یہاں خصوصیت سے رمضان کا ذکر ہے۔بعض علماء نے فرمایا کہ یہاں رمضان نے تو اے رب عرض کیا مگر قرآن نے اے رب نہ کہا۔معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کلام الٰہی قدیم ہے اور مخلوق نہیں۔(مرقات) ۳؎ اس طرح کہ روزوں کی شفاعت سے گناہ معاف ہوں گے اور قرآن کی شفاعت سے درجے بلند یا روزوں کی شفاعت سے غضبِ الٰہی کی آگ ٹھنڈی ہوگی اور قرآن کی شفاعت سے رحمت الٰہی کی ہوا چلے گی وغیرہ وغیرہ۔روزے اور قرآن بلکہ سارے اعمال وہاں شکلوں میں نمودار ہوں گے جیسے آج دنیا میں ہم واقعات کو خواب میں مختلف شکلوں میں دیکھ لیتے ہیں۔بادشاہ مصر نے آئندہ قحط سالیوں کو گایوں اور بالیوں کی شکل میں دیکھا تھا۔