روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان آگیا برکت والا مہینہ ہے ۱؎ اﷲ نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ۲؎ اس میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں ۳؎ دوزخ کے دروازے بند کئے جاتے ہیں اور اس میں مردود شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں۴؎ اس میں ایک رات ہے ہزار مہینوں سے بہتر ۵؎ جو اس کی خیر سے محروم رہا وہ بالکل ہی محروم رہا ۶؎(احمد،نسائی)
شرح
۱؎ برکت کے معنی ہیں بیٹھ جانا جم جانا اسی لیے اونٹ کے طویلہ کو مبارك الابل کہا جاتا ہے کہ وہاں اونٹ بیٹھتے بندھتے ہیں اب وہ زیادتی خیر جو آکر نہ جائے برکت کہلاتی ہے،چونکہ ماہ رمضان میں حسی برکتیں بھی ہیں اور غیبی برکتیں بھی اس لیے اس مہینہ کا نام ماہ مبارک بھی ہے رمضان میں قدرتی طور پر مؤمنوں کے رزق میں برکت ہوتی ہے اور ہر نیکی کا ثواب ستر گُنا یا اس سے بھی زیادہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ماہ رمضان کی آمد پر خوش ہونا ایک دوسرے کو مبارک بار دینا سنت ہے اور جس کی آمد پر خوشی ہونا چاہئیے اس کے جانے پر غم بھی ہونا چاہئیے۔دیکھو نکاح ختم ہونے پر عورت کو شرعًا غم لازم ہے اسی لیے اکثر مسلمان جمعۃ الوداع کو مغموم اور چشم پر نم ہوتے ہیں اور خطباء اس دن میں کچھ وداعیہ کلمات کہتے ہیں تاکہ مسلمان باقی گھڑیوں کو غنیمت جان کر نیکیوں میں اور زیادہ کوشش کریں ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ ۲؎ یعنی سب پر روزۂ رمضان ہی فرض ہیں طاقتِ روزہ رکھنے والا فدیہ نہیں دے سکتا،رب تعالٰی فرماتاہے: "فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلْیَصُمْہُ"حتی کہ حائضہ عورت نمازوں کی قضا نہیں کرتی مگر روزوں کی قضا کرتی ہے لہذا حدیث اپنے ظاہر پر ہے۔ ۳؎ آسمان میں بہت سی قسم کے دروازے ہیں:روزی اور فرشتے اترنے کے لیے دروازے،لوگوں کے اعمال جانے کے دروازے،عذاب آنے کے دروازے،مخصوص رحمتیں اترنے کے دروازے وغیرہ یہاں یہ آخری قسم کے دروازے مراد ہیں یعنی رمضان میں خاص رحمتوں یا خاص فرشتوں کی آمد کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ آسمان کے دروازے تو ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ ۴؎ اس جملہ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں بہترین مطلب یہ ہے کہ عام شیاطین تو رب کے عام جیل خانوں میں بند کئے جاتے ہیں مگر بہت زیادہ سرکش شیاطین زنجیروں و طوقوں میں باندھے جاتے ہیں جیسے دنیاوی جیلوں میں پھانسی کے ملزم کال کوٹھری میں بند ہوتے ہیں اور ڈاکوؤں کو بیڑیاں پہنادی جاتی ہیں اسی لیے یہاں تُغَلُّ فرمایا گیا۔تغل غل سے بنا،بمعنی زنجیر و طوق لہذا یہاں مردود کی قید احترازی ہے اور یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف بھی نہیں۔ ۵؎ وہ رات شب قدر ہے جو بفضلہ تعالٰی ہر ماہ رمضان میں ہوتی ہے کہ دوسری ہزار مہینوں کی عبادت سے جس میں شبِ قدر نہ ہو اس ایک رات کی عبادت بہتر ہے اور غالبًا یہ رات ستائیسویں رمضان ہے۔اس کی نفیس بحث ہماری کتاب"مواعظہ نعیمیہ"میں ملاحظہ فرمائیے۔خیال رہے کہ لیلۃ القدر میں نو حرف ہیں اور سورۃ قدر میں یہ لفظ تین بار ارشاد ہوا نو۹ تین دفعہ ہوں تو ستائیس بنتے ہیں،نیز سورۂ قدر میں تیس کلمے ہیں آخری آیت "ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ"میں ھی ضمیر جو لیلۃ القدر کی طرف لوٹ رہی ہے ستائیسواں کلمہ ہے۔ان وجوہ سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ شبِ قدر ستائیسویں رمضان ہے۔ ۶؎ یعنی جس نے یہ رات گناہوں میں گزاری یا اس رات بھی بلاعذر عشاء اور فجر جماعت سے نہ پڑھی اس لیے اس کی خیر و برکت سے محروم رہا وہ بقیہ دنوں میں بھی بھلائی نہیں کمائے گا۔شبِ قدر میں عبادتوں کی تین قسم ہیں جن میں سے آخری قسم ہے عشاء و فجر کا جماعت سے ادا کرنا جس نے یہ بھی نہ کیا واقعی وہ بڑا محروم ہے۔الحمدﷲ! گنہگار احمد یار آج ستائیسویں رمضان ۱۳۷۹ھ کو یہ مضمون لکھ رہا ہے آج شبِ قدر ہے۔