Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
185 - 5479
حدیث نمبر 185
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان کی ساری نیکیاں دس۱۰ گُنے سے سات سوگُنے تک بڑھائی جائیں گی ۱؎ رب تعالٰی فرماتے ہیں سوائے روزہ کے کہ روزہ تو میرا ہے ۲؎  اور میں ہی اس کا ثواب دوں گا۳؎  وہ میرے لیے اپنی شہوت اور اپنا کھانا چھوڑتاہے۴؎  روزہ دار کو دو خوشیاں ہیں ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملتے وقت ۵؎ روزہ دار کی منہ کی بدبو اﷲ کے ہاں مشک کی خوشبو سے بہتر ہے ۶؎ اور روزے ڈھال ہیں۷؎ اور جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو نہ بری بات کہے نہ شور مچائے ۸؎ اگر کوئی اس سے گالی گلوچ یا جنگ کرے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں ۹؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی قانونًا ایک نیکی کا ثواب کم سے کم دس گُنا اور زیادہ سے زیادہ سات سو گُنا ہے اگر اﷲ اور زیادہ دے تو اس کا کرم ہے۔اس حدیث سے دو آیتوں کی طرف اشارہ ہے ایک تو"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"اور دوسری"کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ"۔

۲؎ اگرچہ ساری عبادتیں اﷲ تعالٰی کی ہیں مگر خصوصیت سے روزہ کو فرمایا کہ یہ میرا ہے چند وجہوں سے:ایک یہ کہ دیگر عبادات میں اطاعت غالب ہے اور روزہ میں عشق غالب اور روزہ دار میں علامات عشق جمع ہوجاتی ہیں۔شعر

عاشقاں راشس نشان است اے پسر 		آہ  سرد و رنگ  زرد و چشم  تر

گر    ترا     پرسند    سہ    دیگر    کدام			کم خورد کم گفتن و خفتن حرام

اور مطیع کا عوض ثواب ہے عاشق کا عوض لقائے یار۔دوسرے یہ کہ دوسری عبادتوں میں ریا ہوسکتی ہے کیونکہ ان کی کوئی نہ کوئی صورت ہوتی ہے اور ان میں کچھ کرنا ہوتا ہے مگر روزہ میں ریاء نہیں ہوسکتی کہ نہ اس کی کوئی صورت ہے اور نہ اس میں کچھ کرنا ہے،جو اندر باہر کچھ نہ کھائے پیئے وہ یقینًا مخلص ہی ہے،ریا کار گھر میں کھا کر بھی روزہ ظاہر کرسکتا ہے۔تیسرے یہ کہ کل قیامت میں دوسری عبادتیں اہل حقوق چھین سکتے ہیں حتی کہ قرض خواہ مقروض سے سات سو نمازیں تین پیسہ قرض کی عوض لے لے گا۔(شامی)مگر روزہ کسی حق والے کو نہ دیا جائے گا،رب تعالٰی فرمائے گا کہ روزہ تو میرا ہے یہ کسی کو نہیں ملے گا۔چوتھے یہ کہ کفار و مشرکین دوسری عبادتیں بتوں کے لیے بھی کرلیتے ہیں قربانی،سجدہ،حج و خیرات وغیرہ مگر کوئی کافر روزہ بت کے لیے نہیں رکھتا اگر روزہ رکھتے بھی ہیں تو صفائی نفس کے لیے تاکہ اس صفائی سے بتوں سے قرب حاصل ہو۔غرض کہ روزہ غیراﷲ کے لیے نہیں ہوتا۔(ازمرقات،اشعہ وغیرہ)

۳؎ اس عبارت کی دو قرأتیں ہیں اجزی معروف اور اجزی مجہول یعنی روزہ کا بدلہ میں براہ راست خود دوں گا،میں دینے والا روزہ دار لینے والا جو چاہوں دوں اس کی جزا مقرر نہیں یا روزہ کا بدلہ میں خود ہوں یعنی تمام عبادات کا بدلہ جنت ہے اور روزہ کا بدلہ جنت والا رب اس کی وجہ آگے آرہی ہے۔

۴؎  یعنی دوسرے عابد عابد ہیں یہ عابدبھی اور عاشق بھی یا روزہ دار ریا ء کے لیے کھانا پینا نہیں چھوڑتا وہ صرف میری رضا کے لیے چھوڑتا ہے ریا کار چھپ کر کھا کر روزہ ظاہرکرسکتا ہے۔

۵؎ سبحان اﷲ!کیسا پیارا فرمان ہے روزہ دارکو افطار کے وقت روحانی خوشی بھی ہوتی ہے کہ عبادت ادا ہوئی رب تعالٰی راضی ہوا سینہ میں نور دل میں سرور ہوا اور جسمانی فرحت بھی کہ سخت پیاس کے بعد ٹھنڈا پانی بہت ہی فرحت کا باعث ہے اور تیز بھوک میں رب تعالٰی کی روزی بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے اور ان شاءاﷲ مرتے وقت بھی بروز قیامت بھی رب تعالٰی کی مہربانی دیکھ کر روزہ دار کو جو خوشی ہوگی وہ تو بیان سے باہر ہے وہ کریم فرمائے گا کہ دنیا میں جو میں نے کہا وہ تو نے کیا اب جو تو کہے گا وہ میں کروں گا اﷲ تعالٰی خیریت سے وہ وقت دکھائے۔اﷲ کا شکر ہے کہ فقیرحقیرگنہگار یہ بیان بھی آج ۲۵ رمضان المبارک ۱۳۷۹ھ؁ جمعرات کے دن لکھ رہا ہے۔رب تعالٰی اپنے فضل و کرم اور محبوب معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے سے اس قال کو حال بنادے۔

۶؎  خیال رہے کہ منہ کی وہ بو جو دانتوں کے میل وغیرہ یا بیماری سے پیدا ہوکر نحر کہلاتی ہے اور جو معدہ خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا سے خلوف کہتے ہیں،دانتوں کے میل کی بو تو مسواک ومنجن سے جاسکتی ہے اور بیماری کی بو دواؤوں سے مگر خلوف معدہ کی بو صرف کھانے سے جاسکتی ہے۔تجربہ ہے کہ یہ بو مسواک کے بعدبھی رہتی ہے لہذا یہ حدیث نہ امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کی اس پر دلیل ہے کہ بعد زوال روزہ میں مسواک منع اور نہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے اس مسئلہ کے خلاف ہےکہ روزہ میں مسواک ہر وقت جائزہے۔ یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ جملہ ایسا ہے جیسے ماں کہے کہ مجھے اپنے بچے کا پسینہ کیوڑے گلاب سے پیارا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پسینہ دھویا بھی نہ جائے۔روزہ میں مسواک کی پوری بحث ان شاءاﷲ آگے آئے گی۔

۷؎ کہ دنیا میں نفس و شیطان کے شر سے بچاتے ہیں اور آخرت میں دوزخ کی آگ سے بچائیں گے۔

۸؎  شور سے مراد جنگ و جدال کا شور ہے۔شریعت میں روزہ پیٹ اور دماغ کا ہوتا ہے مگر طریقت میں سارے اعضاء کا کہ انہیں گناہوں سے بچایا جائے اس جملہ میں اسی روزہ کی تعلیم ہے۔

۹؎ لہذا میں تجھ سے لڑنے کو تیار نہیں اس پر ان شاءاﷲ وہ خود ہی شرمندہ ہوجائے گا یا یہ مطلب ہے کہ میں روزہ دار ہوں اﷲ کی ضمان میں ہوں مجھ سے لڑنا گویا رب کا مقابلہ کرنا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت اپنی چھپتی عبادت کا اظہار جائز ہے بشرطیکہ فخر و ریا کے لیے نہ ہو۔
Flag Counter