Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
184 - 5479
حدیث نمبر 184
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۱؎ اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۲؎ اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ احتساب حسبٌ سے بنا،بمعنی گمان کرنا اور سمجھنا،احتساب کے معنی ہیں ثواب طلب کرنا یعنی جس روزہ کے ساتھ ایمان اور اخلاص جمع ہوجائیں اسکا نفع تو بے شمار ہے۔دفع ضرر یہ ہے کہ اس کے سارے صغیرہ گناہ، حقوق اﷲ معاف ہوجاتے ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہندؤوں کے برت(روزہ)اور کافروں کے اپنے دینی روزوں کا کوئی ثواب نہیں کہ وہاں ایمان نہیں اور جوشخص بیماری کے علاج کے لیے روزہ رکھے نہ کہ طلب ثواب کے لیے تو کوئی ثواب نہیں کہ وہاں احتساب نہیں۔

۲؎  اس عبادت سے مراد نماز تراویح ہے جو صرف رمضان میں ادا ہوتی ہے یا نماز تہجد۔

۳؎ مرقات نے فرمایا کہ ان جیسے نیک اعمال سے گناہ صغیرہ تو معاف ہوجاتے ہیں اور گناہ کبیرہ صغیرہ بن جاتے ہیں اور بے گناہوں کے درجات بڑھ جاتے ہیں لہذا اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ رمضان میں روزوں کی برکت سے گناہ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں اور تراویح کی برکت سے گناہ کبیرہ ہلکے پڑ جاتے ہیں اور شب قدر کی عبادت کی برکت سے درجے بڑھ جاتے ہیں لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ جب روزوں سے گناہ معاف ہوگئے تو پھر تراویح اور شبِ قدر کی عبادت سے کیا ہوگا۔
Flag Counter