Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
186 - 5479
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر 186
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جن قید کردیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جن میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ۱؎ اور پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے بھلائی چاہنے والے آ ۲؎ اور برائی چاہنے والے باز آ ۳؎ اور اﷲ کی طرف سے لوگ آگ سے آزاد کئے جاتے ہیں یہ ہر رات ہوتاہے ۴؎ (ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ ان تین جملوں کی شرح ابھی کچھ پہلے ہوچکی ہے کہ یہ تینوں جملے اپنے ظاہری معنے پر ہیں ان میں کسی کی تاویل یا توجیہ کی ضرورت نہیں،چونکہ ابلیس ایک ہے اور اس کی ذریت بہت قسم کی جن کے نام بھی الگ ہیں اور کام بھی الگ یہ سب ہی ایک مہینہ کے لیے گرفتار کرلیے جاتے ہیں اس لیے شیاطین جمع فرمایا۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ رمضان کے علاوہ دیگر مہینوں میں جنت اور دوزخ کے دروازے کبھی کھلتے ہیں کبھی بند ہوتے ہیں مگر رمضان میں سارا مہینہ دوزخ کے دروازے بند رہتے ہیں جنت کے کھلے۔سبحان اﷲ! حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر کا دروازہ دیگر مہینوں میں شبِ جمعہ کو کھلتا ہے مگر ماہ رمضان میں ہمیشہ کھلا رہتا ہے کیوں نہ ہو کہ وہ ہم غریبوں کی جنت ہے۔شعر

مسجد من کعبہ من خلد من 			آستان تو در تو کوئے تو

۲؎ اﷲ کی طرف آ،رسول اﷲ کی طرف آ،جنت کی طرف آ،مسجد کی طرف آ،عبادت کی طرف آ کیونکہ اب عمل قلیل پر جزائے جلیل ملے گی،زمانہ کمائی کا آگیا کچھ کمالے۔

۳؎  گناہوں سے باز آ،غیراﷲ کی طرف سے بھاگنے سے باز آ،رمضان رب کا مہمان ہے اس سے شرم کر۔اس آواز کا اثر یہ دیکھا جارہا ہے کہ اس زمانہ میں بے نماز نمازی ہوجاتے ہیں،بخیل سخی بن جاتے ہیں،بچے اور بیمار جو نماز سے گھبرائیں روزہ پر حریص ہوتے ہیں حالانکہ روزہ نماز سے دشوار ہے روزہ میں عادۃً سستی اور نیند بڑھ جاتی ہے مگر پھر بھی مسجدیں بھری رہتی ہیں اور راتیں ذکر اﷲ سے آباد۔

۴؎  یعنی مہینہ بھر روزانہ افطار کے وقت بہت سے ہم جیسے گنہگار جو اپنے گیارہ مہینوں کی بدکاریوں کی وجہ سے دوزخ کے مستحق ہوچکے ہوتے ہیں انہیں اﷲ روزہ کی برکت سے معافی دے دیتا ہے فرماتا ہے اگرچہ گنہگار ہیں مگر روزہ دار ہیں بخش دیا ۔
Flag Counter