۱؎ یا اس طرح کہ جنت میں آٹھ طبقے ہیں ہر طقبہ کا ایک دروازہ یا اس طرح کہ جنت کی پہلی ہی دیوار میں آٹھ دروازے ہیں تاکہ ہرقسم کے نیک لوگ اپنے اپنے الگ دروازے سے داخل ہوں۔
۲؎ ریان بروزن فعلان ریٌ سے بنا،بمعنی تروتازگی،سیرابی و سبزی۔چونکہ روزہ دار روزوں میں بھوکے پیاسے رہتے تھے اور بمقابلہ بھوک کے پیاس کی زیادہ تکلیف اٹھاتے تھے اس لیے ان کے داخلے کے لیے وہ دروازہ منتخب ہوا جہاں پانی کی نہریں بے حساب،سبزہ،پھل فروٹ اور سیرابی ہے،اس کا حسن آج نہ ہمارے وہم و گمان میں آسکتا ہے نہ بیان میں ان شاءاﷲ دیکھ کر ہی پتہ لگے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ روزہ چور اور روزہ توڑ مسلمان اگرچہ رحمت خداوندی اور شفاعت مصطفوی کی برکت سے بخش بھی دیئے جائیں اور جنت میں داخل بھی ہوجائیں مگر اس دروازے سے نہیں جاسکتے کہ یہ دروازہ تو روزہ داروں کے لیے مخصوص ہے۔