۱؎ صوم کے لغوی معنے ہیں باز رہنا،قرآن کریم فرماتاہے:"اِنِّیۡ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا"یعنی میں نے بات چیت سے باز رہنے کی نذر مانی ہے۔شریعت میں صبح سے شام تک بہ نیت عبادت صحبت سے اور کسی چیز کے پیٹ یا دماغ میں داخل کرنے سے باز رہنےکو صومکہا جاتا ہے۔روزہ کا منشا ہے نفس کا زور توڑنا،دل میں صفائی پیدا کرنا فقرا اور مساکین کی موافقت کرنا،مساکین پر اپنے دل کو نرم بنانا۔مرقات میں ہے کہ یوسف علیہ السلام زمانۂ قحط میں پیٹ بھر کھانا نہ کھاتے تھے تاکہ بھوکوں فاقہ مستوں کا حق نہ بھول جائیں۔ لمعات،مرقات اور درمختار وغیرہ میں ہے کہ ۲ھ ہجری میں تبدیلی قبلہ کے ایک مہینہ بعد ہجرت سے اٹھارھویں مہینہ دسویں شعبان کو روزے فرض ہوئے،روزے کی فرضیت میں چھ قسم کی تبدیلیاں ہوئیں جنہیں ہم نے اپنی"تفسیرنعیمی"پارہ دوم میں تفصیل وار بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر 182
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رمضان آتا ہے ۱؎ تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۲؎ اور دوزخ کے دروازے بندکردیئے جاتے ہیں شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں۳؎ ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ رمضان رمض سے بنا بمعنی گرمی یا گرم،چونکہ بھٹی گندے لوہے کو صاف کرتی ہے اور صاف لوہے کو پرزہ بنا کر قیمتی کردیتی ہے اورسونے کو محبوب کے پہننے کے لائق بنادیتی ہے اسی طرح روزہ گنہگاروں کے گناہ معاف کراتا ہے،نیک کار کے درجے بڑھاتا ہے اور ابرار کا قرب الٰہی زیادہ کرتا ہے اس لیے اسے رمضان کہتے ہیں،نیز یہ اﷲ کی رحمت،محبت،ضمان،امان اور نورلے کر آتا ہے اس لیے رمضان کہلاتا ہے۔خیال رہے کہ رمضان یہ پانچ ہی نعمتیں لاتا ہے اور پانچ ہی عبادتیں:روز،تراویح،اعتکاف،شبِ قدر میں عبادات اور تلاوت قرآن،اسی مہینہ میں قرآن کریم اترا اور اسی مہینہ کا نام قرآن شریف میں لیا گیا ماہ رمضان کے تفصیل وار فضائل ہماری کتاب"تفسیرنعیمی"جلد دوم میں دیکھو۔ ۲؎ حق یہ ہے کہ ماہ رمضان میں آسمانوں کے دروازے بھی کھلتے ہیں جن سے اﷲ کی خاص رحمتیں زمین پر اترتی ہیں اور جنتوں کے دروازے بھی جس کی وجہ سے جنت والے حور و غلمان کو خبر ہوجاتی ہے کہ دنیا میں رمضان آگیا اور وہ روزہ داروں کے لیے دعاؤں میں مشغول ہوجاتے ہیں حدیث اپنے ظاہر پر ہےکسی تاویل کی ضرورت نہیں۔ ۳؎ یہ جملہ بھی اپنے ظاہری معنے پر ہی ہے کہ ماہ رمضان میں واقعی دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اس مہینہ میں گنہگاروں بلکہ کافروں کی قبروں پر بھی دوزخ کی گرمی نہیں پہنچتی۔وہ جومسلمانوں میں مشہور ہے کہ رمضان میں عذابِ قبر نہیں ہوتا اس کا یہی مطلب ہے اورحقیقت میں ابلیس مع اپنی ذریتوں کے قیدکردیا جاتا ہے۔اس مہینہ میں جو کوئی بھی گناہ کرتا ہے وہ اپنے نفس امارہ کی شرارت سے کرتا ہے نہ کہ شیطان کے بہکانے سے۔فقیر کی اس تقریر سے اس حدیث کے متعلق بہت سے اعتراضات دفع ہوگئے مثلًا یہ کہ جب ابھی جنت میں کوئی جا ہی نہیں رہا تو اس کے دروازے کھلنے سے کیا فائدہ یا یہ کہ جب دوزخ کے دروازے بند ہوگئے تو رمضان میں گرمی کہاں سے آتی ہے یا یہ کہ جب شیطان بند ہوگیا تو اس مہینہ میں گناہ کیسے ہوتے ہیں۔