Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
178 - 5479
حدیث نمبر 178
روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لی تو ایک شاندار عورت شاید وہ مضر کی عورتوں سے تھی ۱؎ اٹھی اور بولی یا نبی اﷲ ہم تو اپنے باپ،دادوں،اولاد اور خاوندوں پر بوجھ ہیں ۲؎  ہمیں ان کے مالوں سے کس قدر درست ہے فرمایا تر کھانا جسے تم کھالو اور ہدیہ دے سکو۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی حسین صورت دراز قامت عزت و شرف والی کہ قبیلہ مضر کے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے آج مصری لوگ یعنی غالبًا وہ بی بی قبیلہ مضرابن نزار سے تھیں۔

 ۲؎یعنی یہ لوگ ہم کو ہمارے حق پورے نہیں دیتے ہم پر خرچ کرتے گھبراتے ہیں۔خیال رہے کہ لڑکی کا خرچ شادی سے پہلے باپ کے ذمہ ہے شادی کے بعد خاوند کے ذمہ،صاحب اولاد ہونے کے بعد بیٹے پر ماں باپ کی ہر طرح کی خدمت لازم ہے مگر پھر بھی خاوند پر اس کا خرچہ رہے گا۔

۳؎  یعنی پکے ہوئے کھانے تر میوہ جو زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتے انہیں خود بھی کھاؤ اور ہدیہ بھی دو ہر وقت علیحدہ اجازت لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان چیزوں کے ہدیہ کی عرفًا اجازت ہوتی ہے۔حق یہ ہے کہ یہ حدیث باپ،اولاد،خاوند سب کے مال کے متعلق ہے۔لڑکی باپ کے مال سے،ماں اولاد کے مال سے،بیوی خاوند کے مال سے بغیر صریحی اجازت کے اس قسم کی چیزوں میں سے صدقہ ہدیہ سب کچھ کرسکتی ہے حق یہ ہی ہے۔
Flag Counter