۱؎ یعنی بیوی خاوند کے مال سے بغیر اجازت خیرات نہ کرے اجازت خواہ صریحی ہو یا عرفی جیسے عام طور پر بیویوں کو خاوندوں کی طرف سے روٹی کا ٹکڑا،معمولی چیز خیرات کردینے،مہمانوں کی خاطر تواضح کردینے کی اجازت ہوتی ہے بلکہ خاوند اس پرمطلع ہوکر خوش ہوتے ہیں کہ ہماری بیوی سلیقہ مند ہے،مہمان نواز ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں۔
۲؎ یعنی کھانا تو بہتر ین مال ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے جب اپنے خاوند کی اجازت بغیرمعمولی چیز بھی خرچ نہیں کرسکتی تو کھانے جیسی بہترین چیز کیسے خیرات کرسکتی ہے،اس کا مطلب ابھی عرض کیا گیا۔