روایت ہے حضرت عمیر سے جو ابی اللحم کے غلام ہیں ۱؎ فرماتے ہیں کہ میرے مولا نے مجھے گوشت سکھانے کا حکم دیا ۲؎ کہ ایک مسکین آگیا جسے میں نے اس میں سے کچھ دے دیا۳؎ اس کی خبر میرے مولا کو ہوئی تو اس نے مجھے مارا میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ ماجرا حضور سے عرض کیا ۴؎ حضور نے انہیں بلایا فرمایا تم نے انہیں کیوں مارا عرض کیا کہ یہ میرا کھانا میری بغیر اجازت دے دیتا ہے فرمایا ثواب تم دونوں کو ہے ۵؎ ایک روایت میں یوں ہے کہ فرماتے ہیں میں مظلوم تھا میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اپنے مولا کے مال سے کچھ خیرات کردیا کروں فرمایا ہاں اور ثواب تم دونوں کو آدھا آدھا ہو گا۶؎(مسلم)
شرح
۱؎ عمیر صحابی ہیں،غزوہ خیبر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے،ان کے مولیٰ بھی صحابی ہیں،ان کے مولی کا نام عبداﷲ ہے،لقب ابی اللحم یعنی گوشت کے انکاری،چونکہ یہ گوشت کی تجارت کرتے تھے مگر خود بالکل نہ کھاتے تھے اس لیے ان کا یہ لقب ہوا۔بعض نے فرمایا کہ یہ زمانۂ جاہلیت میں بتوں کے نام کا ذبح کیا ہوا گوشت نہ کھاتے تھے مشہور اور پرانے صحابہ میں سے ہیں،جنگ بدر میں شریک ہوئے اور غزوہ حنین میں شہید۔ ۲؎ اَقْدِدْ قَدٌّ سے بنا یعنی گوشت کے لمبے پارچے کرنا،چونکہ یہ پارچے سکھانے کے لیے کئےجاتے ہیں اس لیے اب سکھانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔اہلِ عرب گوشت سکھاکر مہینوں استعمال کرتے ہیں اب بھی سوکھا گوشت ولایت سے بند ڈبو ں میں آتا ہے۔ ۳؎ چوری یا مولیٰ کے نقصان کی نیت سے نہیں بلکہ محض ثواب کی غرض سے کیونکہ غلاموں کو اس قسم کے صدقات کی عادۃً اجازت ہوتی ہے۔ ۴؎ اس جملہ سے فقیر کی شرح کو قوت پہنچتی ہے اگر ان کی نیت فاسد ہوتی تو اس واقعہ کو دبالیتے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت نہ لاتے۔شکایت کا منشا یہ ہی تھا کہ میں تو مولیٰ کے مال سے صدقہ کرکے ان کا فائدہ کرتا ہوں وہ مجھے مارتے ہیں۔ ۵؎ یعنی اگر تم اس کے دیئے ہوئے سے راضی ہوجاؤ تو تم بھی ثواب پاؤ اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ غلام کو مولیٰ کی بغیر اجازت اس کے مال میں تصرف کرنے کی مطلقًا اجازت دے دی جائے بلکہ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غلام کی نیک نیتی پر مطلع تھے اس لیے ان کے مولیٰ کو ایک بہتر بات کی ہدایت دی۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر مولیٰ بلاقصور بھی غلام کو مار دے تو مولیٰ پر اس کا قصاص نہیں،یونہی اگر باپ بیٹے کو،استاد شاگرد کو غلط فہمی کی بنا پر بلاوجہ بھی مارے تو قصاص نہیں،دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے بلاقصور ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ لیے مگر اصل واقعہ اور حضرت ہارون علیہ السلام کی بے قصوری معلوم ہونے پر ان کے لیے دعا کی لیکن قصاص نہ دیا لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے کو حضرت عکاشہ کے سامنے پیش فرمادینا تعلیم عدل کے لیے ہے نہ کہ بیان قانون کے لیے۔ ۶؎ اس کا مطلب وہی ہے جو پہلے عرض کیا جاچکا کہ اس سے وہ صورتیں مراد ہوتی ہیں جن میں مولیٰ کی طرف سے غلام کو عرفًا خرچ کردینے کی اجازت ہوتی ہے ورنہ کسی کا مال اس کی بغیر اجازت خیرات نہیں کرسکتے۔