۱؎ سائل حضرت عبادہ ابن عبادہ تھے،ان کی والدہ عمرہ بنت مسعود ابن قیس ابن عمرو ابن زید تھیں، ۵ھ میں ہاٹ فیل(Heart Fail)یعنی حرکت قلب بند ہوجانے سے وفات پاگئیں،ناگہانی موت غافل کے لیے عذاب ہے کہ اسے توبہ اور نیک اعمال کا موقعہ نہیں ملتا مگر ذکر خدا میں رہنے والے مؤمن کے لیے رحمت کہ اﷲ تعالٰی اسے بیماری کی شدتوں سے بچالیتا ہے لہذا حدیث پرکوئی اعتراض نہیں،آپ کی والدہ صحابیہ ہیں،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرچکی تھیں،بڑی عابدہ زاہدہ تھیں۔
۲؎ یعنی ہاں ان کی طرف سے تم صدقہ دو انہیں ضرور ثواب ملے گا۔لمعات میں حضرت شیخ نے فرمایا کہ اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ میت کی طرف سے صدقہ اور اس کے لیے دعا کرنا سنت ہے اس سے میت کو فائدہ پہنچتا ہے۔صدقہ کے ثواب پہنچنے میں تمام اہلِ حق کا اتفاق ہے البتہ بدنی عبادت کے متعلق علماء میں اختلاف ہے مگر حق یہ ہے کہ ان کا ثواب بھی پہنچتا ہے ہم بیرام سعد کی حدیث میں اس مسئلہ کو وضاحت سے بیان کرچکے ہیں کہ اس قسم کی ایصال ثواب کی احادیث نہ تو اس آیت کے خلاف ہیں کہ"لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"اور نہ ا سکے کہ"لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اکْتَسَبَتْ"کیونکہ ان آیات میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کی طرف سے بدنی عبادتیں ادا نہیں کرسکتا کہ اس کی طرف سے نمازیں فرض ادا کردیا کرے یا روزے رکھ دیا کرے،ادائے فرض اور ہے ثواب کچھ اور اسی لیے آیات میں کسب اور سعی کا ذکر ہوا نہ کہ ثواب کا،ایصال تو قرآن کریم کی آیت سے ثابت ہے،دیکھو ہماری کتاب"فہرست القرآن"۔ اشعۃ للمعات میں اسی جگہ ہے کہ شیخ عزیز الدین عبدالسلام کو کسی نے ان کی موت کے بعد خواب میں دیکھا فرمایا ہم دنیا میں تلاوت قرآن کے ثواب پہنچنے کے منکر تھے مگر اس جہاں میں آکر پتہ لگا کہ اس کا ثواب بھی پہنچتا ہے۔