۱؎ بادشاہوں امیروں کے ہاں خزانچی بھی ملازم ہوتے ہیں جن کے پاس مالک کا روپیہ جمع رہتا ہے جس کا وہ لین دین کرتے ہیں اور حساب رکھتے ہیں خزانچی مسلمان بھی ہوتے ہیں اور کافر بھی اگلا اجر صرف مسلمان خزانچی کے لیے ہے کیونکہ کافر کسی نیکی کے ثواب کا مستحق نہیں،ثواب قبولیت پر ملتا ہے اور قبولیت کی شرط اسلام ہے۔اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ مسلمان کو چاہئیے کہ حتی الامکان خزانچی مسلمان رکھے اور کلیدی آسامیوں پر مسلمان کو لگائے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنْ دُوۡنِکُمْ"۔کفار کو اپنا مشیر نہ بناؤ،نیز امین اور حساب دان مسلمان کو خزانچی بناؤ۔
۲؎ یعنی اگر مسلمان امین خزانچی میں صدقہ دیتے وقت چار صفتیں جمع ہوجائیں تو مالک کی طرح اسے بھی صدقہ کا ثواب ملے گا:(۱) مالک کے حکم سے صدقہ دے۔(۲)پورا پورا صدقہ دے حکم سے کم نہ دے۔ (۳)خوشدلی سے دے جل کر نہ دے جیساکہ بعض خازنوں کی عادت ہے کہ مالک خیرات کرے ان کی جان جلے۔(۴) جہاں صدقہ دینے کو کہا گیا ہے وہاں ہی دے مصرف نہ بدلے،مسجد میں دینے کو کہا ہے تو مسجد میں دے،خانقاہ پر خرچ کرنے کو کہا ہے تو وہاں ہی خرچ کرے۔وحی کے متعلق قرآن کریم فرماتاہے:"فَمَنۡۢ بَدَّلَہٗ بَعْدَمَا سَمِعَہٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یُبَدِّلُوۡنَہٗ"۔یہ حدیث گویا اس آیت شریف کی تفسیر ہے۔