۱؎ شیخ نے اس حدیث کے دو مطلب بیان کئے:ایک یہ کہ کسی شخص سے اﷲ کے نام پر کچھ نہ مانگوکیونکہ اﷲ تعالٰی کے نام پر مانگنے کی چیز جنت ہے اور یہ شخص جنت دے نہیں سکتا۔دوسرے یہ کہ اﷲ تعالٰی سے اس کے نام پر دنیاوی چیز نہ مانگو بلکہ اس کے نام پر اس سے جنت مانگو یہ عرض کرو"اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْئَلُكَ بِوَجْھِكَ الْکَرِیْمِ اَنْ تُدْخِلَنَا الْجَنَّۃَ"۔فقیر احمد یار کہتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اﷲ تعالٰی کے نام پر جنت مانگو جیسے حضرت ربیعہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت مانگی"اَسْئَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِی الْجَنَّۃِ"۔بعض عشاق کہتے ہیں کہ خدا تعالٰی سے جناب مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانگو اور جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا تعالٰی کو مانگو۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم از تومے خواہم خدارا خدایا از تو عشق مصطفےٰ را
حضرت ربیعہ نے بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضور ہی کو مانگا مگر چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنت ہی میں ملیں گے اس لیے جنت بھی مانگ لی عرض کیا آپ سے آپ کی ہمراہی مانگتا ہوں جو جنت میں ہوگی۔