| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو تم سے اﷲ کی پناہ لے اسے پناہ دے دو ۱؎ اور جو اﷲ کے نام پر مانگے اسے کچھ دو اور جوتمہیں دعوت دے اس کی دعوت قبول کرو ۲؎ اور جو کوئی تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ کرو ۳؎ اگر بدلہ کی چیز نہ پاؤ تو اس کو دعائیں دو ۴؎ حتی کہ سمجھ لو کہ تم نے اس کا بدلہ کردیا ۵؎(احمد،ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ یعنی جو تمہاری سختی یا غیر کی سختی سے تمہارے پاس اﷲ کی پناہ مانگے تو اسے دیدو کہ اگر تم کسی کو مارنا چاہتے ہو تو معافی دے دو یا کوئی دوسرا اس پر سختی کرنا چاہتا ہے اور تم دفع کرسکتے ہو تو کہہ دو،یہ حکم اپنے ذاتی معاملات میں ہے،قوم یا دین کے مجرم کو ہرگز معاف نہیں کرسکتے اگرچہ وہ کیسی ہی پناہ لے تاکہ امن و دین میں خلل نہ پڑے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ آپ نے فاطمہ مخزومیہ کو جس نے چوری کرلی تھی معافی نہ دی۔ ۲؎ بشرطیکہ وہ دعوت ممنوعات شرعیہ سے خالی ہو لہذا جس ولیمہ میں ناچ گانا خاص کھانے کی جگہ ہو وہاں نہ جائے ایسے ہی میت کے کھانے پر رسمی دعوت قبول نہ کرے لہذا یہ فرمان فتویٰ فقہاء کے خلاف نہیں۔ ۳؎ اس طرح کہ وہ جس قسم کا سلوک تم سے کرے قولی،عملی ،مالی تم بھی اس سے ویسا سلوک کرو۔رب تعالٰی فرماتاہے:"ہَلْ جَزَآءُ الْاِحْسٰنِ اِلَّا الْاِحْسٰنُ"اور فرماتاہے:"وَ اَحْسِنۡ کَمَاۤ اَحْسَنَ اللہُ اِلَیۡکَ"۔یہ حکم ہم جیسے کم ہمت لوگوں کے لیے ہے ہمت والے تو اپنے دشمنوں کی برائی کا بدلہ معافی اور بھلائی سے کرتے ہیں۔شعر لیا ظلم کا عفو ہے انتقام علیہ الصلوۃ علیہ السلام ۴؎ اس طرح کہ کہو"جزاك اﷲ"یا اس کا کھانا کھا کر کہو"اللھم اطعم من اطعمنا واسق من سقانا" وغیرہ حضرت عائشہ صدیقہ کو جب کوئی سائل دعائیں دیتا تو آپ پہلے اسے دعائیں دیتیں پھر بھیک عطا فرماتیں کسی نے پوچھا کہ آپ عطا سے پہلے دعا کیوں دیتی ہیں فرمایا کہ میرا صدقہ عوض سےبچارہے،رضی اللہ عنہا۔ (مرقات) ۵؎ اس بنا پر حضرات صوفیاء فرماتے ہیں کہ ہمیشہ ہی درود شریف پڑھنا چاہئیے کیونکہ کوئی شخص نہ تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا بدلہ کرسکتا ہے اور نہ بقدر احسان دعائیں ہی دے سکتا ہے کہ ان کے احسانات ہر آن بے شمار پہنچ رہے ہیں،ہر کلمہ،ہر تلاوت،ہر نماز بلکہ ہر نیک عمل میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم پر احسانات ہیں لہذا مرتے مرتے ان کو دعائیں دو یعنی درود پاک پڑھو۔شعر حی و باقی جس کی کرتا ہے ثنا مرتے دم تک اس کی مدحت کیجئے جس کا حسن اﷲ کو بھی بھاگیا اس کے پیارے سے محبت کیجئے