روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ مدینہ میں تمام انصار سے زیادہ باغوں والے تھے اور انہیں زیادہ پیارا مال باغ بیرحاء تھا ۱؎ جو مسجد شریف کے سامنے تھا رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں کا بہترین پانی پیتے تھے ۲؎ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ"الخ نازل ہوئی ۳؎ تو حضرت ابوطلحہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کھڑے ہوکر بولے یا رسول اﷲ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ تم بھلائی اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنا پسندیدہ مال خرچ نہ کرو اور مجھے بہت پسندیدہ مال باغ بیرحاء ہے اب وہ اﷲ کے لیے صدقہ ہے میں اﷲ کے پاس اس کا ثواب اور اس کا ذخیرہ چاہتا ہوں۴؎ یا رسول اﷲ آپ اسے وہاں خرچ کریں جہاں رب تعالٰی آپ کی رائے قائم فرمائے ۵؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوب خوب یہ تو بڑا نفع کا مال ہے ۶؎ جو تم نے کہا میں نے سن لیا میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے اہل قرابت میں وقف کردو ۷؎ ابوطلحہ بولے یا رسول اﷲ میں یہ ہی کرتا ہوں پھر اسے ابوطلحہ نے اپنے عزیزوں اور چچا زادوں میں تقسیم کردیا ۸؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ حضرت طلحہ کے ایک باغ کا نام ہے۔اس نام کے محدثین نے آٹھ معنے کئے ہیں:جن میں سے ایک یہ کہ حاء ایک آدمی کا نام تھا جس نے یہ کنواں کھدوایا تھا،چونکہ یہ کنواں اس باغ میں تھا لہذا باغ کا نام بھی یہ ہی ہوا،وہ کنواں اب تک موجود ہے۔فقیر نے اس کا پانی پیا ہے۔دوسرے یہ کہ بیرحاء بروزن فعیل ہے ایک ہی لفظ ہے براح سے مشتق،بمعنی کھلی زمین پہلی صورت میں اس کے معنے ہوں گے حاء کا کنواں دوسری صورت میں معنے ہوں گے کھلا باغ۔(ازمرقات وغیرہ) ۲؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہاں کا پانی بہت محبوب تھا اسی لیے حجاج باخبر ضرور اس کا پانی برکت کے لیے پیتے ہیں۔ ۳؎ جس میں ارشاد ہوا کہ تم بھلائی یعنی رضائے الٰہی یا جنت اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو۔اس آیت کی مکمل تفیسر ہماری تفسیر"نور العرفان"میں ملاحظہ فرمایئے۔ ۴؎ حضرت ابوطلحہ کے اس عرض و معروض کا مقصد یہ تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے اس عمل خیر پر گواہ ہوجائیں اور مسلمانوں میں اس وقف کا اعلان ہوجائے۔خیال رہے کہ دوسرے نفلی صدقات اکثر خفیہ دینا بہتر ہیں مگر وقف کا ہر طرح اعلان کردینا سخت ضروری ہے تاکہ آئندہ اس موقوف چیز پر کوئی ناجائز قبضہ نہ کرسکے حتی کہ مسجد کی عمارت میں مینار گنبد وغیرہ ایسے نشانات قائم کردیئے جائیں جس سے وہ دور سے ہی مسجد معلوم ہو اس میں ریا نہیں بلکہ وقف کا باقی رکھنا ہے،نیز آپ کا اپنا دلی اخلاص ظاہرکرنا ریاء کے لیے نہ تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا حاصل کر نے کے لیے تھا لہذا حدیث پاک پر کوئی اعتراض نہیں۔ ۵؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہیں اس باغ کی آمدنی لگادیں کہ وہاں خرچ ہوتی رہے،چونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کا چاہنا اپنے نفس کی طرح سے نہیں ہوتا بلکہ رب تعالٰی کی طرف سے ہوتاہے اسی لیے اس طرح عرض کیا"حَیْثُ اَرَاكَ اﷲُ"صحابہ کرام اپنے صدقے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے خرچ کراتے تھے تاکہ اس ہاتھ کی برکت سے قبول ہوجائیں،رب تعالٰی ٰ فرماتا ہے:"خُذْ مِنْ اَمْوٰلِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا"یعنی آپ ان کے مالوں کے صدقے وصول فرمالیں اور ان کے ذریعہ انہیں پاک و صاف فرمادیں آج مسلمان ختم و فاتحہ میں عرض کرتے ہیں نذر اﷲ نیاز رسول اﷲ اس کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔ ۶؎ عربی میں نہایت خوشی کے اظہار کے وقت کہا جاتا ہے بخ بخ یعنی خوب خوب۔رابح ربح سے بنا،بمعنی نفع،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَمَا رَبِحَتۡ تِّجٰرَتُہُمْ"یعنی یہ مال بہت نفع والا ہے جیسے لابن دودھ والا اور تامر چھواروں والا یعنی اے ابوطلحہ!تمہیں اس باغ کے وقف سے بہت نفع ہوگا۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو اعمال کی قبولیت کی بھی خبر ہے اور یہ بھی کہ کس کا کون سا عمل کس درجہ کا قبول ہے یہ باغ کیوں قبول نہ ہوتا باغ بھی اچھا تھا وقف کرنے والےبھی اچھے یعنی صحابی اور جن کی طفیل وقف کیا گیا وہ اچھوں کے شہنشاہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ۷؎ یعنی اپنے عزیز و اقارب فقراء کو اس کا مصرف بنادو کہ ہمیشہ وہ اس کی آمدنی کھایا کریں تاکہ تمہیں صدقہ کے ساتھ اہل قرابت کے حقوق ادا کرنے کا بھی ثواب ملتا رہے۔خیال رہے کہ بعض اوقاف وہ ہوتے ہیں جن سے امیروغریب حتی کہ وقف کرنے والا بھی نفع حاصل کرسکتا ہے جیسے کنواں،مسجد،قبرستان،مسافر خانہ۔ ۸؎ اس کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ باغ تو وقف رہا مگر اس کی تولیت تقسیم کردی گئی کہ اتنے حصے کے فلاں متولی کہ خود کھائیں اور دوسروں کو کھلائیں اور اتنے حصے کے فلاں۔دوسرے یہ کہ خود باغ ہی کو تقسیم کردیا کہ ان لوگوں کو ان حصوں کا مالک بنادیا مگر اشعۃ اللمعات میں شیخ نے فرمایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں ان کے اہل قرابت سے وہ باغ خرید لیا اور وہاں اپنی عمارتیں بنائیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقسیم بطریق تملیک تھی بطریق تقسیم تولیت نہ تھی حضرت حسان ابن ثابت و ابی ابن کعب کو بھی اس سے حصہ ملا تھا۔