۱؎ آپ کا نام حوا بنت زید ابن سکن ہے مگر اپنی کنیت میں مشہور ہیں،انصاریہ ہیں،صحابیہ ہیں،آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں۔
۲؎ یہاں سائل سے مراد حاجت مند سائل ہے اور جلی کھری سے مراد نہایت معمولی چیز ہے جس کی کوئی قیمت نہ ہو یعنی اگر کوئی حاجت مند سائل آئے تو اسے خواہ معمولی چیز ہی بن پڑے دے دو۔خیال رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے،آج کل کے پیشہ ور سائل اور جن سائلوں کو دینا منع ہے وہ اس میں داخل نہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض سائلوں کو نہیں بھی دیا ہے کیونکہ وہاں سائل غیرحاجتمند تھے یا ایسی چیز مانگتے تھے جس کے وہ مستحق نہ تھے یا پیشہ بھیک سے انہیں روکنا مقصود تھا۔