Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
168 - 5479
حدیث نمبر 168
روایت ہے ام بجید سے ۱؎ فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سائل کو دے کر لوٹاؤ اگرچہ جلی کھری ہی ہو۲؎ (مالک،نسائی)اورترمذی و ابوداؤد نے اس کے معنے روایت کئے۔
شرح
۱؎ آپ کا نام حوا بنت زید ابن سکن ہے مگر اپنی کنیت میں مشہور ہیں،انصاریہ ہیں،صحابیہ ہیں،آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں۔

۲؎ یہاں سائل سے مراد حاجت مند سائل ہے اور جلی کھری سے مراد نہایت معمولی چیز ہے جس کی کوئی قیمت نہ ہو یعنی اگر کوئی حاجت مند سائل آئے تو اسے خواہ معمولی چیز ہی بن پڑے دے دو۔خیال رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے،آج کل کے پیشہ ور سائل اور جن سائلوں کو دینا منع ہے وہ اس میں داخل نہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض سائلوں کو نہیں بھی دیا ہے کیونکہ وہاں سائل غیرحاجتمند تھے یا ایسی چیز مانگتے تھے جس کے وہ مستحق نہ تھے یا پیشہ بھیک سے انہیں روکنا مقصود تھا۔
Flag Counter