Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
167 - 5479
حدیث نمبر 167
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تمہیں بہترین آدمی نہ بتاؤں ۱؎ وہ شخص ہے جو اﷲ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے رہے ۲؎ کیا تمہیں نہ بتاؤں کہ اس کے بعدکون ہے وہ شخص ہے جو اپنی بکریوں میں رہے ان میں سے اﷲ کا حق ادا کرتا رہے ۳؎ کیا میں تمہیں بدترین آدمی نہ بتاؤں وہ شخص ہے جو اﷲ کے نام پر مانگا جائے اور اس پر  بھی نہ دے۴؎(ترمذی،نسائی، دارمی)
شرح
۱؎ سرکار کا یہ پوچھنا سامعین کو شوق دلانے کے لیے ہوتا تھا کہ اس سے ان کو انتظار ہوجائے اور جو چیز انتظار کے بعد معلوم ہوتی ہے وہ یاد رہتی ہے اور یہاں خیروشر سے اضافی خیروشر مراد ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہترین بندہ مؤمن ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ ہُمْ خَیۡرُ الْبَرِیَّۃِ"اور بدترین انسان کافر ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ"۔

۲؎ یعنی ہر وقت جہاد کے لیے تیار رہے اعلان جنگ کا منتظر رہے،چونکہ اس زمانہ میں گھوڑا جہاد کا بڑا ہتھیار تھا اس لیے اس کا خصوصیت سے ذکر فرمایا آج توپ وبندوق کی مشق کرنے،ہوائی سروس کا آدمی جب تیاریٔ جہاد کے لیے یہ سب کچھ کرے وہ اس میں داخل ہوگا۔شیخ نے فرمایا کہ یہ کلام حصر کے لیے نہیں بلکہ شمول کے لیے ہے یعنی یہ مجاہد بھی بہترین لوگوں میں سے ہے۔

۳؎ عرب میں جانوروں والے لوگ جنگل میں اپنے گھر بنالیتے تھے وہاں ہی جانوروں میں رہتے تھے ان کی حفاظت بھی کرتے تھے اور اپنا گزارہ بھی۔انہیں اس لیے افضل فرمایا گیا کہ یہ بستی کے اکثر فتنوں سے محفوظ رہتے ہیں لوگوں سے اختلاط بہت سے گناہوں کا سبب ہے۔

۴؎ اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ وہ شخص بدترین ہے جس سے فقیر اﷲ کے نام پر کچھ مانگے اور وہ نہ دے اس صورت میں دینے سے مراد مطلقًا دینا ہوگا اگرچہ ایک پیسہ ہی ہو یا بحالت مجبوری فقیر کو دعا خیر دینا ہی ہو۔ایک یہ کہ وہ سائل بھکاری بدترین شخص ہے جو لوگوں سے اﷲ کے نام پر مانگے اور لوگ اسے کچھ دیں نہیں کیونکہ یہ سائل اﷲ تعالٰی کے نام کی توہین کرتا ہے کہ پیسہ پیسہ کے لیے اﷲکا نام ہرکس وناکس کے سامنے لیتا ہے۔(اشعۃ اللمعات)
Flag Counter