۱؎ یعنی غریب آدمی محنت مزدوری کرے پھر اس میں سے خیرات بھی کرے اس کا بڑا درجہ ہے۔خیال رہے کہ بعض لحاظ سے غنی کی خیرات افضل ہے جب کہ وہ توکل میں کامل نہ ہو اور بعض لحاظ سے فقیر کی خیرات افضل ہے جب کہ وہ اس کے گھر والے صبرو توکل میں کامل ہوں لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں کہ صدقہ غنٰے بہتر ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہاتھ کا فقیر دل کا غنی تھوڑی سی خیرات کرے تو ہاتھ کے غنی کی بہت سی خیرات سے افضل ہے لہذا وہاں غنی والی حدیث میں دل کی غنا مراد ہوسکتی ہے تب بھی احادیث میں تعارض نہیں۔
۲؎ یعنی کوئی شخص اپنے بال بچوں کو بھوکا رکھ کر خیرات نہ کرے پہلے ان کا پیٹ بھرو،تن ڈھکو،پھر خیرات کرو۔یہ مطلب نہیں کہ اپنی زکوۃ پہلے اپنے بال بچوں کو دو،پھر دوسروں کوکیونکہ اپنی زکوۃ ا اپنی اولا اور بیوی کو نہیں لگتی۔