Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
165 - 5479
حدیث نمبر 165
روایت ہے حضرت سلیمان ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ عام مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے اور وہ ہی صدقہ اپنے قرابت دار پر دو صدقے ہیں ایک صدقہ دوسرا صلہ رحمی ۱؎(احمد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)
شرح
۱؎ پہلے مسکین سے مراد اجنبی مسکین ہے یعنی اجنبی مسکین کو خیرات دینے میں صرف خیرات کا ثواب ہے اور اپنے عزیز مسکین کو خیرات دینے میں خیرات کا بھی ثواب ہے اور صلہ رحمی کا بھی۔صلہ رحمی یعنی اہل قرابت کا حق ادا کرنا بھی عبادت ہے،بہترین عبادت،پھر جس قدر رشتہ قوی اسی قدر اس کے ساتھ سلوک کرنا زیادہ ثواب ہے اس لیے رب تعالٰی نے اہل قرابت کا ذکر پہلے فرمایا کہ ارشاد فرمایا:"فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَ الْمِسْکِیۡنَ وَابْنَ السَّبِیۡلِ"۔
Flag Counter