| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت سلیمان ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ عام مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے اور وہ ہی صدقہ اپنے قرابت دار پر دو صدقے ہیں ایک صدقہ دوسرا صلہ رحمی ۱؎(احمد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)
شرح
۱؎ پہلے مسکین سے مراد اجنبی مسکین ہے یعنی اجنبی مسکین کو خیرات دینے میں صرف خیرات کا ثواب ہے اور اپنے عزیز مسکین کو خیرات دینے میں خیرات کا بھی ثواب ہے اور صلہ رحمی کا بھی۔صلہ رحمی یعنی اہل قرابت کا حق ادا کرنا بھی عبادت ہے،بہترین عبادت،پھر جس قدر رشتہ قوی اسی قدر اس کے ساتھ سلوک کرنا زیادہ ثواب ہے اس لیے رب تعالٰی نے اہل قرابت کا ذکر پہلے فرمایا کہ ارشاد فرمایا:"فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَ الْمِسْکِیۡنَ وَابْنَ السَّبِیۡلِ"۔