۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ پڑوسیوں کو ہدیہ دینا سنت ہے کہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔دوسرے یہ کہ اس کی علت پڑوسیت ہے جس قدر پڑوسیت قوی ہوگی اسی قدر ہدیہ کا استحقاق زیادہ ہوگا۔ تیسرے یہ کہ پڑوس کا قرب دروازہ سے ہوتا ہے نہ چھت سے نہ دیوار سے۔اگر ایک شخص کے مکان کی دیوار اورچھت تو ہمارے مکان سے ملی ہو مگر دروازہ دور ہو اور دوسرے کی نہ چھت ملی ہو نہ دیوار مگر دروازہ قریب ہو تو زیادہ قریب یہ دوسرا ہی مانا جائے گا اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کیونکہ دروازہ کی وجہ سے ملاقات ہوتی ہے اور اسی کے ذریعہ زیادہ خلط ملط رہتا ہے اور ایک کو دوسرے کے درد وغم میں شرکت کا زیادہ موقع ملتا ہے۔یہ حدیث اس آیتِ کریمہ کی تفسیرہے"وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ"۔حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ دور والے پڑوسی کو بالکل نہ دو مطلب یہ ہے کہ سب کو دو مگر قریب کو ترجیح دو۔