Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
160 - 5479
حدیث نمبر 160
روایت ہے حضرت زینب زوجہ عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عورتوں کی جماعت صدقہ کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی ہو ۱؎ فرماتی ہیں عبداﷲ کی طرف لوٹی ہوئی بولی کہ تم کچھ مسکین و تنگدست ہو اور رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو صدقہ کا حکم دیا ہے تم وہاں حاضر ہو کر پوچھ آؤ اگر تم کو میرا صدقہ کرنا درست ہو تو خیر ۲؎ ورنہ میں آپ لوگوں کے سواء کسی اور جگہ خرچ کروں ۳؎ فرماتی ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بولے کہ تم ہی وہاں جاؤ ۴؎ میں چلی تو حضور کے دروازہ پاک پر ایک اور انصاری بی بی بھی تھیں جنہیں میرے جیسا ہی کام تھا ۵؎ فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر قدرتی ہیبت دی گئی تھی۶؎ فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس حضرت بلال آئے ہم نے ان سے عرض کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ عرض کرنا کہ دروازے پر دو بیبیاں ہیں جو حضور سے پوچھتی ہیں ۷؎ کہ کیا ان کا اپنے خاوندوں اور یتیموں پر خرچ کر دینا جو ان کی پرورش میں ہوں صدقہ بن جائے گا ۸؎ اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں ۹؎ فرماتی ہیں کہ حضرت بلال رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ پوچھا ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کون ہیں عرض کیا کہ ایک انصاری بی بی اور زینب ہیں ۱۰؎ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کونسی زینب عرض کیا عبداﷲ کی زوجہ ۱۱؎ تب رسول ا ﷲ نے فرمایا کہ انہیں دو ہرا ثواب ہے ایک ثواب قرابت کا دوسرا صدقہ کا ۱۲؎(مسلم،بخاری)اور لفظ مسلم کے ہیں۔
شرح
۱؎ غالبًا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عید کے دن تھا،چونکہ اس زمانہ میں عورتیں بھی نماز عید کے لیے عیدگاہ جاتی تھیں اور ان کے لیے بعد نماز مخصوص وعظ ہوتا تھا اس وعظ میں آپ سے یہ سنا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہےکہ عورتوں کے استعمالی زیور پر زکوۃ فرض ہےاور یہ زکوۃ خود عورت پر فرض ہے نہ کہ اس کے خاوند پر خواہ میکے سے زیور ملا ہو یا سسرال والوں نے دیا ہو بشرطیکہ مالک کردیا ہولہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے،امام شافعی کے ہاں پہننے کے زیور میں زکوۃ نہیں۔ان شاءاﷲ اس کی تحقیق مصارف زکوۃ میں ہوگی۔اس صورت میں زیور سے مراد چاندی سونے کا زیور ہےکیونکہ پہننے کے موتی،مرجان،لعل،ہیرے پر زکوۃ نہیں۔

۲؎ یعنی اگر تم کو میرا صدقہ دینا درست ہو تب تو میں تم ہی کو صدقہ دے دوں ورنہ کسی اورکو دوں۔اس سے معلوم ہوا کہ غنی عورت کا خاوند اور غنی خاوند کی بیوی ایک دوسرے کے غنی سے غنی نہ مانے جائیں گے جیسے امیر کی بالغ اولاد باپ کی غنا سے غنی نہیں ہوتی۔دیکھو حضرت ابن مسعود کی بیوی  غنیہ تھیں مگر خود ابن مسعود مسکین تھے۔

۳؎ حضرت ابن مسعود کی کچھ اولاد بھی تھی جو دوسری بیوی سے تھی اور اب حضرت زینب ان کی پرورش فرماتی تھیں۔غیر کم میں ان سب سے خطاب ہے یعنی اگر تمہیں اور تمہارے ان بچوں کو میرا صدقہ لینا درست ہو تو میں تمہیں دے دوں ورنہ دوسروں کو دوں۔

۴؎ مجھے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھتے شرم آتی ہے کہ اس سے بعض لوگ مجھے طمعی سمجھیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی بیوی سے باہر کا کام بھی کراسکتا ہے جب کہ حجاب و پردہ سے ہو،یہ بھی معلوم ہوا کہ مسئلہ خود نہ پوچھنا کسی دوسرے سے پوچھوالینا بھی درست ہے جب اس سے کچھ مانع ہو۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مذی کا مسئلہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے خود نہ پوچھا بلکہ حضرت مقداد سے پوچھوایا۔

۵؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر ایک بی بی اور بھی یہ ہی پوچھنے کھڑی تھیں مجھے اس سے خوشی ہوئی کہ ہم دو ہوگئے۔

۶؎ یعنی رب العلمین نے دلوں میں آپ کی ہیبت ڈال دی تھی جس کی وجہ سے ہرشخص بغیر اجازت خدمت میں حاضر ہونے،عرض معروض کرنے کی ہمت نہ کرتا تھا اور حاضرین بارگاہ بھی ایسے خاموش اور با ادب بیٹھتے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے ہیں،حالانکہ سرکار انتہائی خلیق اور بہت رحیم و کریم تھے۔شعر

ہیبت حق است ایں از خلق نیست 		ہیبت ایں مردِ صاحب دلق نیست

اسی وجہ سے یہ دونوں بیبیاں دروازے پر کھڑی رہ گئیں،بارگاہ پاک میں باریاب نہ ہوئیں۔

۷؎ یعنی خود تو شرم و ہیبت کی وجہ سے حاضر نہیں ہوتیں میری معرفت یہ مسئلہ پوچھوا رہی ہیں۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مسئلہ براہ راست پوچھنا بھی جائز اورکسی کی معرفت پوچھوانا بھی۔دوسرے یہ کہ دینی باتوں میں ایک کی خبر معتبر ہے گواہی قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔دیکھو حضرت بلال ان بیبیوں کو جو بھی مسئلہ آکر بتاتے یہ قبول کرلیتیں۔فقہاء فرماتے ہیں کہ جب مطلع گرد آلود ہو تو رمضان کے چاند میں ایک کی خبر قبول ہے اور محدثین کہتے ہیں کہ حدیثوں میں خبر واحد معتبر ہے،ان کے دلائل قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ ہیں ان میں ایک حدیث یہ بھی ہے۔

۸؎  شاید یتیموں سے ان کے خاوندوں کی وہ اولاد مراد ہے جن کی والدہ فوت ہوچکی تھیں،یعنی ان کی سوتیلی اولاد۔انہیں یتیم کہنا مجازًا ہے ورنہ انسان یتیم وہ نابالغ ہوتا ہے جس کا باپ فوت ہوجائے اور جانوروں میں وہ بچہ یتیم جس کی ماں مرجائے۔ان بیبیوں کا خیال یہ تھا کہ چونکہ یہ سب لوگ ہمارے ساتھ ہی رہتے سہتے ہیں اور ساتھ کھاتے پیتے ہیں اگر انہیں صدقہ دیا گیا تو اس کا کچھ حصہ ہمارے کھانے میں بھی آجائے گا لہذا ناجائز ہونا چاہئیے۔

 ۹؎ تاکہ حاضرین میں ہمارا نام نہ لیا جائے اور ہمارا سوال ریا نہ بن جائے یا ہم بلا نہ لی جائیں۔

۱۰؎  حضرت بلال کا جواب نہایت ایمان افروز ہے کیونکہ ان بیبیوں نے کہا تھا کہ ہمارا نام نہ بتانا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نام بتاؤ تو حکم رسول و حکم امتی میں تعارض ہوا جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو ترجیح ہوئی اور امتی کا حکم  قابل عمل نہ رہا    ۔مرقات نے  یہاں فرمایا کی حضرت بلال  پر  نام  بتادینا  فرض شرعی ہوگیاکیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم  ماننا فرض ہے،انہیں دوسری بی بی کا نام معلوم نہیں تھا ورنہ وہ بھی بتادیتے۔

۱۱؎ یعنی مدینہ منورہ میں بہت عورتوں کا نام زینب ہے صاف بتاؤ کونسی زینب ہیں تب حضرت بلال نے عرض کیا کہ عبداﷲ کی بیوی،اگرچہ عبداﷲ نام کے بہت صحابہ تھے عبداﷲ ابن عمر،عبداللہ ابن عباس،عبداﷲ ابن زبیر،عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص وغیرہم مگر ان سب میں عبداﷲ ابن مسعود بہت مشہور فقیہ ترین تھے،علم فقہ کی باعث فقط عبداﷲ کہنے پر لوگوں کے ذہن انہیں کی طرف جاتے تھے اسی لیے حضرت بلال نے ابن مسعود نہ فرمایا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پھر نہ پوچھنا کون عبداﷲ اسی جلالت شان کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ اکثر فقیہات میں حضرت عبداﷲ ابن مسعود ہی کے پیروکار ہیں۔

۱۲؎  سارے آئمہ اس پر متفق ہیں کہ خاوند اپنی بیوی کو اپنی زکوۃ نہیں دے سکتا مگر اس میں اختلاف ہے کہ بیوی خاوند کو زکوۃ دے سکتی ہے یا نہیں۔ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں کہ نہیں دے سکتی،دیگر آئمہ فرماتے ہیں کہ دے سکتی ہے،ان بزرگوں کی دلیل یہ حدیث ہے۔امام اعظم فرماتے ہیں کہ یہاں صدقہ نفل مراد ہے صدقہ فرض کی تصریح نہیں ممانعت کی صریح حدیث آگے آرہی ہے،نیز عورت و خاوند کے مال قریبًا مشترک ہوتے ہیں تو جب خاوند بیوی کو زکوۃ نہ دے سکا تو بیوی خاوند کو زکوۃ کیسے دے سکتی ہے۔صدقہ کا لفظ صدقہ نفلی پر عام شائع ہے۔چنانچہ کتاب الزکوۃ کی آخری حدیث میں آئے گا کہ ایک عورت نے اپنی ماں کو صدقہ دیا یعنی صدقہ نفلی۔
Flag Counter