Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
159 - 5479
حدیث نمبر 159
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے ۱؎ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ اگر میں ابوسلمہ کے بچوں پر جو گویا میرے ہی بچے ہیں خرچ کروں تو کیا مجھے ثواب ملے گا فرمایا ان پر خرچ کرو تمہیں ان پر خرچ کا ثواب ہے ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ ام سلمہ کے پہلے خاوند کا نام عبداﷲ ابن عبدالاسد تھا،کنیت ابو سلمہ،ان کی وفات کے بعد آپ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت سے مشرف ہوئیں،ابو سلمہ کی کچھ اولاد دوسری بیوی سے تھی جو ام سلمہ کی سوتیلی اولاد تھی،عمر،زینت اور کچھ اولاد خود ام سلمہ کے بطن سےتھی یعنی سلمہ کی حقیقی اولادمحمد،درّہ۔یہاں سوال سوتیلی اولاد کے متعلق ہے ورنہ آپ بنی ابی سلمہ نہ فرماتیں لہذا حدیث پر کوئی ا عتراض نہیں۔

۲؎ کیونکہ وہ یتیم بھی ہیں اور تمہارے عزیز ترین بھی،ان پر خرچ کرنا یتیم کو پالنابھی ہے اور عزیز کا حق ادا کرنا بھی،اپنے فوت شدہ خاوند کی روح کو خوش کرنابھی۔
Flag Counter